مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10025
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10025]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10026
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10026]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ، ثُمَّ حَمَلَ الْحَسَنَ , أَوْ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ، وَإِنََّ لُعَابُهُ لَيَسِيلُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فََإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10027]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 10028
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَمْرٍ فَاجْتَنِبُوهُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10028]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10029
وَقََالَ: يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ , يَقُولُ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ البتہ راہ راست پر رہو قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10029]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6637
حدیث نمبر: 10030
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه، لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں تم میں سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کروں گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو دوسرے اونٹوں سے دور کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10030]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
حدیث نمبر: 10031
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، لَيْسَ شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو میں ایک دینار بھی چھوڑ کر مرنا پسند نہیں کروں گا سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10031]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 10032
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً، فَقَالَ:" لَقَدْ فُضِّلَتْ عَلَيْهِ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا حَرًّا فَحَرًّا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہاری یہ آگ جسے بنی آدم جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ یہ ایک جز بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٦٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10032]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 10033
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ، إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10033]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
حدیث نمبر: 10034
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَاد ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تُرْسِلْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10034]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243