مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10075
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10075]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10076
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مَاتَ، فَقَالُوا: خَيْرًا، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ"، وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالُوا شَرًّا، وَأَثْنَوْا شَرًّا، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَجَبَتْ"، قَالَ: " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک فوت شدہ آدمی کا تذکرہ ہوا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور آدمی کا تذکرہ ہوا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10076]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ أَبِيه ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10077]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10078
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ مِنْ أَكْذَبِ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10078]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَتَعَاظَمَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَة.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے بہت اہم سمجھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابوہریرہ سچ کہتے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کردئیے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10079]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10080
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، فَلَقِيتُ ابْنَ الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي , عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَإِنْ صَامَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10080]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
حدیث نمبر: 10081
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلَا رُخْصَةٍ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، وَإِنْ صَامَهُ" ، قَالَ سُفْيَان : قَالَ حَبِيبٌ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنِ أَبِي الْمُطَوِّس ، فَلَقِيتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي. حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، فَقَالَ: أَبُو الْمُطَوِّس .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10081]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10082
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ , فَذَكَرَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10082]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10083
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَاجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10083]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 291 ، م: 348، الحسن: لم يسمع من أبي هريره لكن عرفت الواسطه بينهما، وهو أبو رافع الثقه
حدیث نمبر: 10084
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، َعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سُئِلَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10084]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6599، م: 2659