مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10105
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ، قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" . قَال: وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ" , قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ مَرَّةً: وَيُعْلَمَ مَا هِيَ. قَالَ:" وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت کی خریدوفروخت منع فرمایا ہے۔ اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10105]
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10106
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10106]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10107
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ كُلِّهِ فِي مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10107]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503
حدیث نمبر: 10108
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10108]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 10109
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10109]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، ورجاله ثقات
حدیث نمبر: 10110
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قََالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَةٍ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہوگا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جاسکتا ہے البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہوگا اور اس پر سواری بھی کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10110]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2512
حدیث نمبر: 10111
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10111]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، خ: 1178، م: 721، فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10112
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10112]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10113
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلْمَانُ الْأَغَرُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10113]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، فهو كسابقه
حدیث نمبر: 10114
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَالْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ , وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہیں اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10114]
الحكم على الحديث:
إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422، ورواية الحسن، مرسلة