مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10144
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَات" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو، البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10144]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10145
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْك" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10145]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10146
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور کی جائے گی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10146]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 10147
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10147]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو، وهو متابع
حدیث نمبر: 10148
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ: أَنْ يَشْتَمِلَ أَحَدُكُمْ الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , أَوَيَحْتَبِيَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے پر دوسرے سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10148]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10149
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10149]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 10150
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قََالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ، قََالَ: قُلْنَا: حَدِّثْنَا، فَقَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَ سِنِينَ مَا كُنْتُ سَنَوَاتٍ قَطُّ أَعْقَلَ مِنِّي فِيهِنَّ، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَعِيَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِنَّ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَقُولُ بِيَدِهِ: " قَرِيبٌ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّهَا الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی کوئی حدیث سنائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان کوئی حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی کوئی نہیں رہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے قریب تم لوگ ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے سرخ ہوں گے یوں محسوس ہوتا ہوگا کہ ان کے چہرے چپٹی کمانیں ہیں۔ واللہ تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔ اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10150]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912
حدیث نمبر: 10151
وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهُ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسْأَلَهُ، يُؤْتِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ .
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10152
وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ .
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10153
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10153]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6750 ، م: 1458