مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10135
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ أَوْ اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کرکے دور کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10135]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10136
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10136]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127
حدیث نمبر: 10137
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَجَّاجٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , الْمَعْنَى، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: إِذَا مُتُّ فَلَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ، وَأَسْرِعُوا بِي إِلَى رَبِّي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الْعَبْدُ أَوْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ، قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالَ وَيْلَكُمْ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" .
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10137]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10138
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ، أَوْ نَصْلٍ، أَوْ حَافِرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جا سکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10138]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10138M
وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَيَزِيدُ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10138M]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10139
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10139]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10140
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10140]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10141
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , الْمَعْنَى، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ: يَحْيَى، قََالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10141]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
حدیث نمبر: 10142
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ، فَلَهُ قِيرَاطَان" ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: مِثْلُ أُحُد.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا احد پہاڑ کے برابر۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10142]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10143
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10143]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن