مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10492
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: تَرَكَ النَّاسُ ثَلَاثَةً مِمَّا كَانَ يَعْمَلُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا , ثُمَّ سَكَتَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ , فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10492]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 744، 788، م: 392، 598
حدیث نمبر: 10493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ , قََالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ الْمَوْتُ , قََالَ: لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ , وَأَسْرِعُوا بِي , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: أَسْرِعُوا بِي , وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: وَيْلَاهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" .
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10493]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10494
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ , لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ , قَالَ: لَا مُكْرِهَ لَهُ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُبَيَّضٌ , " وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ , لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ اور زائد پانی روک کر نہ رکھاجائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10494]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2353، 7477، م: 1566، 2679
حدیث نمبر: 10495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا شَاهِدًا إِلَّا بِإِذْنِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " (ماہ رمضان کے علاوہ) کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10495]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 10496
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَزْمٌ , قََالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ وَاسِعٍ , عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا , نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَلَى أَخِيهِ , سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ , مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10496]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، والواسطة المبهمة، هو الأعمش أو محمد بن المنكدر وكلاهما ثقة ، م: 2699
حدیث نمبر: 10497
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ , قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ , فَلَا يَضَعَنَّ يَدَهُ فِي الْغِسْلِ حَتَّى يَغْسِلَهَا , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10497]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 162، م: 278، له هنا إسنادان، الأول: متصل حسن، والثاني: مرسل
حدیث نمبر: 10498
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے " جب وہ توبہ کرتا ہے " اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے جو جنگل میں گم ہوگئی ہو اور اس پر اس کے کھانے پینے کی چیزیں بھی موجود ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10498]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2747
حدیث نمبر: 10498M
قََالَ: وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِذَا جَاءَنِي عَبْدِي شِبْرًا جِئْتُهُ بِذِرَاعٍ، وَإِذَا جَاءَنِي بِذِرَاعٍ جِئْتُهُ بِبَاعٍ , وَإِذَا جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ أُهَرْوِلُ" .
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے فرمایا بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10498M]
حدیث نمبر: 10499
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ , لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يَقُمْ , أَوْ يُحْدِثْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10499]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا وقد عنعنه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10500
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ" , وَقَالَ:" أَرَأَيْتَكُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ , فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ" , قَالَ:" وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ بِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے جس سے وہ جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10500]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4684، م: 993