مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ فُقِدَتْ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ: الْفَأْرُ هِيَ أَمْ لَا! أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ، لَمْ تَطْعَمْهُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10452]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10453
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى ابْنِ آدَمَ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِحَرِيرٍ إِذَا بَاتَ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِنْ هُوَ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ قَامَ فَعَزَمَ فَصَلَّى انْحَلَّتْ الْعُقَدُ جَمِيعًا، وَإِنْ هُوَ بَاتَ، وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى يُصْبِحَ، أَصْبَحَ وَعَلَيْهِ الْعُقَدُ جَمِيعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10453]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم سمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10454
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10454]
الحكم على الحديث:
سیأتی ھذا لطريق برقم: 10457، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10455
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ: بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ، فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ، فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ، اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10455]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10456
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10456]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10457
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ، عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِيرٍ، فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتْ الثَّانِيَةُ، فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتْ الثَّالِثَةُ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ، أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ" , يَعْنِي: الْجَرِيرَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10457]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وهو في هذه الرواية موقوف
حدیث نمبر: 10458
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، فَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10458]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10459
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمَطْهَرَةِ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قََالَ: " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ" .
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے وضو خوب اچھی طرح کرو کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10459]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10460
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي فِيهَا، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ" ، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يُقَلِّلُهَا بِيَدِهِ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے۔ کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10460]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10461
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ، فَهُوَ فِي النَّارِ" ، قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ سَعِيدٌ قَدْ كَبِرَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شلوار کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10461]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5787