🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10541
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10541]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5788، م: 2087
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10542
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ، وَلَوْ مِنْ تَوْرِ أَقِطٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو اگرچہ وہ پنیر کے ٹکڑے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10542]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10543
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، وَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، خَطَرَ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ، فَلَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10543]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:608،م:389
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10544
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِنِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ , فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، أَوْ يَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ یا یہ کہ قاری نماز فجر سے واپس ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10544]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: «أو ينصرف القارئ . . . . » ،خ:1145، م:758، وإسناد الحدیث حسن، فیہ محمد بن عمرو، صدوق لہ أوھام۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10545
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ يُقَلِّلُهَا , يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل اور اتارے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ اور اس دن ایک گھڑی (بہت مختصر) ایسی بھی آتی ہے جو اگر کسی نماز پڑھتے ہوئے بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ سے کچھ مانگ لے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10545]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6400، م: 852، 854
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10546
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ , أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر یا اس کی شکل گدھے جیسی بنادے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10546]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10547
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پئیے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پئیے تو اس کی گردن اڑادو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10547]

الحكم على الحديث:
صحيح، وإسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10548
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ , ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں تو ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10548]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10549
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً , عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَلَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يُسْتَمَعَ حَدِيثُهُمْ , أُذِيبَ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ , وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا , دُفِعَ إِلَيْهِ شَعِيرَةٌ وَعُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا , وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تصویر بناتا ہے اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا (اور اس سے کہا جائے گا کہ) اس میں روح پھونکے لیکن وہ اس میں روح پھونک نہ سکے گا جو شخص لوگوں کی بات چوری چھپے سنے اور انہیں اس کا سننا اچھا نہ لگتا ہو تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے اس طرح عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ اسے جو کا دانہ جائے گا اور اس میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ اس میں گرہ لگا نہیں سکے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10549]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7558، م: 2111
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10550
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! سام سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10550]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں