مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10551
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10551]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 10552
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ , وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ , أَوْ قَاتَلَهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10552]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1894، م:1151
حدیث نمبر: 10553
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي يحدث , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10553]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10554
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ , عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ، وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہیں اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10554]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10555
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ , قََالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قََالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ، فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنوں تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10555]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5787
حدیث نمبر: 10556
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , قََالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ , وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا , كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کے لئے گمراہی کا طریقہ رائج کرے گا لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کے لئے ہدایت کا طریقہ رائج کرے لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10556]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2674، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10557
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ , وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ , قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ , فَهُوَ قِمَارٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ریس میں ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے بارے میں یہ یقین نہ ہو کہ وہ آگے بڑھ جائے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے آگے بڑھ جانے (اور جیت جانے) کا یقین ہو تو یہ جوا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10557]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 10558
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ , وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف " خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو " کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10558]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7072، م:2616
حدیث نمبر: 10559
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِثَلَاثٍ وَلَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کرنے کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10559]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
حدیث نمبر: 10560
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قََالَ: يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ , وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخِرَيْ امْرِئٍ أَبَدًا" , وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ: فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویاہو وہ جہنم میں کبھی داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے اور کسی مسلمان کے نتھنوں میں کبھی بھی میدان جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10560]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح