مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10561
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا شَيْءَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10561]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاختلاط صالح
حدیث نمبر: 10562
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹی بات اور کام اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10562]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1903
حدیث نمبر: 10563
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ أَبِحَلَالٍ أَخَذَ الْمَالَ أَمْ بِحَرَامٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کررہا ہے یا حرام طریقے سے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10563]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ:2059
حدیث نمبر: 10564
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَامَرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ , وَقَالَ أَبُو عَامَرٍ مَوْلَى حَكِيمٍ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى حَمَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ََقَال: " لَا تَسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ شَتَمَكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ , وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاقْعُدْ" ." وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ , أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے کی حالت میں گالی گلوچ نہ کرو اگر کوئی تم میں سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے کی حالت میں ہوں اور اگر کوئی تم سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں اور اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10564]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10565
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي , كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ , فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ , وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ , وَسُجُودَكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10565]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 10566
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ , فَقَالَ: " ارْكَبْهَا" , قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم پوچھا (جبکہ انسان حج کے لئے جارہاہو اور اس کے پاس کوئی دوسری سواری نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10566]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10567
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ: " يَصْنَعُ طَعَامَكَ وَيُعَانِيهِ، فَادْعُهُ، فَإِنْ أَبَى فَأَطْعِمْهُ فِي يَدِهِ , وَإِذَا ضَرَبْتُمُوهُمْ , فَلَا تَضْرِبُوهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے اور اگر تم اپنے غلاموں کو مارو تو چہروں پر مارنے سے اجتناب کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10567]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، 2559، م: 1663، 2612
حدیث نمبر: 10568
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , وَقَفَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي كَبْشًا، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، طَوَوْا صُحُفَهُمْ , وَجَلَسُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10568]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3211، م:850
حدیث نمبر: 10569
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ عَلَيْكُمْ أَنْ تُطْعِمُوهُ لُقْمَةً لُقْمَةً , إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے بھی کچھ نہ مانگے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10569]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 10570
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَمُرُّ بِي ثَالِثَةٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلَّا شَيْءٌ أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10570]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991