مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10751
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ , فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10751]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10752
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي , يَذْكُرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ , فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ , فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ الْمَاءَ حَتَّى أَرْوَاهُ , فَشَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلادیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10752]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 173، م: 2244
حدیث نمبر: 10753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَوْكٍ , فَنَحَّاهُ عَنِ الطَّرِيقِ , فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ , فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اللہ نے اس کی قدردانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10753]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَالخَفَّافُ , قال: أَخْبَرَنا هشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَنَتَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينَ يُوسُفَ" , وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ:" كَسِنِي يُوسُفَ" , وَقَالَ فِيهَا كُلِّهَا:" نَجِّ نَجِّ" , وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ كُلِّهَا:" اللَّهُمَّ نْجِّ نْجِّ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10754]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675
حدیث نمبر: 10755
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو، البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10755]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10756
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: " مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي أَرْزُقْهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ أَكْشِفْهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ" , قَالَ أَبُو عَامِرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ کو رزق طلب کرے کہ میں اسے رزق عطا کروں؟ کون ہے جو مصائب دور کرنے کی درخواست کرے کہ میں اس مصائب دور کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10756]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أبى جعفر، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10757
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَبُو عَامِرٍ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْإِيمَانِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوَةٌ لَيْسَ فِيهَا غُلُولٌ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10757]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 26، م: 83، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى جعفر
حدیث نمبر: 10758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عن أَبي مُزَاحمٍ ، عن أبي هريرة , قََالَ: عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَبِي مُزَاحِمٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً وَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يَقْضِيَ قَضَاءَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10758]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1325، م: 945، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى مزاحم
حدیث نمبر: 10759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا يَعْنِي هِشَامٌ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , رَفَعَهُ , قََالَ: عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " وَيْلٌ لِلْوُزَرَاءِ , لَيَتَمَنَّى أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراء چوہدریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ ان کی چوٹیاں ثریا ستارے سے لٹکی ہوتیں اور یہ آسمان و زمین کے درمیان تذبذب کا شکار ہوتے لیکن ذمہ داری پر کام نہ کیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10759]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 10760
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي بْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ , قَالَ: فَقُضِيَ أَنِّي انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا , فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّكَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْحَسَنَةَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ" , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا , بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ , ثُمَّ تَلَا يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَقَالَ: إِذَا قَالَ: أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَمَنْ يَقْدُرُ قَدْرَهُ.
ابوعثمان نہدی رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک نیکی پر بڑھاچڑھا کر دس لاکھ نیکیوں کا ثواب بھی مل سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہورہا ہے؟ بخدا! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ ایک نیکی کو دوگنا کرتے کرتے بیس لاکھ نیکیوں کے برابر بنا دیتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ اللہ اسے دوگنا کردیتا ہے اور اس پر اجر عظیم عطاء فرماتا ہے جب اللہ نے اجر کو عظیم کہا ہے تو اس کی مقدار کون جان سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10760]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف علي