مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10721
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10721]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
حدیث نمبر: 10722
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقُولُ النَّاسُ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَلَقِيتُ رَجُلًا , فَقُلْتُ: " بِأَيِّ سُورَةٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ , فَقَالَ: لَا أَدْرِي , فَقُلْتُ: أَلَمْ تَشْهَدْهَا؟ قَالَ: بَلَى , قُلْتُ: وَلَكِنِّي أَدْرِي , قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا .
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں میں دور نبوت میں ایک آدمی سے ملا اس سے میں نے پوچھا کہ آج رات عشاء کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی سورت پڑھی تھی؟ اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ کیا آپ نماز میں شریک نہیں تھے؟ اس نے کہا کیوں نہیں میں نے کہا کہ میں جانتاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں سورت پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10722]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1223
حدیث نمبر: 10723
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ خَيْرٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَأَضَلَّ النَّاسَ عَنْهُ , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ , هُوَ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , إِنَّ فِيهِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا , إِلَّا أَعْطَاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ سے بہترین کسی جن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا لوگ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں ہفتہ یہودیوں کا ہے اور اتوار عیسائیوں کا ہے۔ اور جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10723]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 876، 6400، م: 852، 855
حدیث نمبر: 10724
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ , وَيَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ , وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ" , قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتنوں کا ظہور، جھوٹ کی کثرت، مارکیٹوں کا قریب ہونا، زمانہ قریب آجانا اور " ہرج " کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10724]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10725
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 , قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ , يَا بَنِي هَاشِمٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ , أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے " تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوکعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے پچاؤ اے گروہ بنوعبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوہاشم! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10725]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 10726
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ خَالِدٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کینت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10726]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3539، م:2134
حدیث نمبر: 10727
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ ، قََالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ , فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ " امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ , يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَذَا , قَالَ أَبِي:، فَقَالَتْ: هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتْ الْمَرْأَةُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ , كَانَتْ كَافِرَةً , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ , فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ" .
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ ہی نے بیان کی ہے کہ ایک عورت کو صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے باندھ کر رکھا تھا اور نہ خود کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ عورت کون تھی؟ وہ عورت اس کام کے ساتھ ساتھ کافرہ تھی ایک مسلمان اللہ کی نگاہوں میں اس سے بہت معزز ہے کہ اللہ اسے صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے اس لئے جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیا کریں تو خوب غور و فکر کرلیا کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10727]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10728
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , سَمِعَ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10728]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 10729
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ , فَاجْلِدُوهُ , فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ" , فَقَالَ: فِي الرَّابِعَةِ" فَاقْتُلُوهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو، سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10729]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10730
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ , قَالَ: وَتَلَا: وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سورة الحج آية 47" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10730]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شتير فى عداد المجهولين