مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10711
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيِّ الْمَدَنِيِّ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ , يَقُولُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ , وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مرد و عورت اس منبر کے قریب جھوٹی قسم کھائے اگرچہ ایک تر مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10711]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10712
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10712]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10713
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَر , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيثٍ , أَوْ مُعَتِّبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ؟ قَالَ: لَقَدْ ظَنَنْتُ لَتَكُونَنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَنِي مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، " شَفَاعَتِي لِمَنْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا , يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ , وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کروگے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہا ہوں اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لا الہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10713]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6570، وهذا إسناد منقطع، يزيد لم يسمعه من معاوية
حدیث نمبر: 10714
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَخَذَتْ النَّاسَ الرِّيحُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ , فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ عُمَرُ: لِمَنْ حَوْلَهُ مَا الرِّيحُ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا , فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ , فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ , وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ , فَلَا تَسُبُّوهَا , وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا , وَعُوذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جارہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جالیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیرطلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10714]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10715
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قََالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10715]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 437، م: 530، وهذا إسناد ضعيف الضعف صالح
حدیث نمبر: 10716
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10716]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 10717
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ نَهَى أَنْ " يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10717]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10718
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ , فَلْيَسْتَنْثِرْ , وَمَنْ اسْتَنْجَى , فَلْيُوتِرْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10718]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 10719
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , وَعُدِّلَتْ الصُّفُوفُ قِيَامًا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ , فَقَالَ لَنَا:" مَكَانَكُم" , ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور چلتے ہوئے اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے تو غسل ہی نہیں کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم یہیں رکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ہمیں نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10719]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 640، م: 605
حدیث نمبر: 10720
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَوْتَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10720]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851