مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 4305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، قَالَ: أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِي، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کلمات تشہد سکھائے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4305]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَذَكَرَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَبْلَ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ"، قَالَوا: ما الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ".
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ”ہرج“ کی کثرت ہوگی“، ہم نے ”ہرج“ کا معنی پوچھا تو فرمایا: ”قتل۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4306]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2672.
حدیث نمبر: 4307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَرَيْنَا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ امْتَسَسْنَا الْأَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رِكَابُنَا؟ قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَقَالَ:" لِيَحْرُسْنَا بَعْضُكُمْ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا أَحْرُسُكُمْ، قَالَ: فَأَدْرَكَنِي النَّوْمُ فَنِمْتُ، لَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِكَلَامِنَا،" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو زمین پر پڑ کر سو جائیں اور ہماری سواریاں چر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ ”تم میں سے کسی کو پہرہ داری کرنی چاہئے“، میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا لیکن مجھے بھی نیند آ گئی، اور اس وقت آنکھ کھلی جب سورج طلوع ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری باتوں کی آواز سن کر بیدار ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4307]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن إن ثبت سماع عبدالرحمن من أبيه فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ أَبِي الْوَاصِلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لُعِنَ الْمُحِلُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حلالہ کرنے اور کروانے والا دونوں ملعون ہیں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4308]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الواصل.
حدیث نمبر: 4309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانُوا يَقْرَءُونَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ پر قرآن کو مشتبہ کر دیا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4309]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4310]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م:91.
حدیث نمبر: 4311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَا وَعَمِّي بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ: فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: فَأَخَذَنِي بِيَدٍ، وَأَخَذَ عَمِّي بِيَدٍ، قَالَ: ثُمَّ قَدَّمَنَا حَتَّى جَعَلَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى نَاحِيَةٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً".
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں اپنے چچا کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے چچا کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4311]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 534، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانَ فِي مَمْلَكَتِهِ، فَتَفَكَّرَ، فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ، فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ، فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ، وَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ، وَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ، فَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ، وَعِبَادَتُهُ وَفَضْلُهُ، فَأَرْسَلَ مَلِكُهُمْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ إِلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، وَقَالَ: مَا لَهُ وَمَالِي؟! قَالَ: فَرَكِبَ الْمَلِكُ، فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ، فَلَمْ يُدْرِكْهُ، قَالَ: فَنَادَاهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا، تفكرت في أمري، فعلمت أن ما أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي، فَتَرَكْتُهُ، وَجِئْتُ هَاهُنَا أَعْبُدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ، فَسَيَّبَهَا، ثُمَّ تَبِعَهُ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَوَا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا، قَالَ: فَمَاتَا"، قَالَ عَبْدُ الله: لَوْ كُنْتُ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ، لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں میں تم سے پہلے ایک بادشاہ گزرا ہے جو اپنی مملکت میں رہا کرتا تھا، ایک دن وہ غور و فکر کر رہا تھا تو اسے یہ بات سمجھ آئی کہ اس کی حکومت ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور وہ جن کاموں میں الجھا ہوا ہے ان کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرنے سے محروم ہے، یہ سوچ کر ایک دن وہ رات کے وقت چپکے سے اپنے محل سے نکلا اور دوسرے ملک چلا گیا، وہاں سمندر کے کنارے رہائش اختیار کر لی اور اپنا معمول یہ بنا لیا کہ اینٹیں ڈھوتا، جو مزدوری حاصل ہوتی، اس میں سے کچھ سے کھانے کا انتظام کر لیتا اور باقی سب اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا۔ وہ اپنے اس معمول پر ثابت قدمی سے عمل کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ خبر اس ملک کے بادشاہ کو ہوئی، اس کی عبادت اور فضیلت کا حال بھی اسے معلوم ہوا تو اس ملک کے بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا بھیجا، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا، بادشاہ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا لیکن اس نے پھر انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ کو مجھ سے کیا کام؟ بادشاہ کو پتہ چلا تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کی طرف روانہ ہوا، جب اس شخص نے بادشاہ کو دیکھا تو بھاگنے لگا، بادشاہ نے یہ دیکھ کر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا لیکن اسے نہ پا سکا، بالآخر اس نے دور ہی سے اسے آواز دی کہ اے اللہ کے بندے! آپ کو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں (میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا)، چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور بادشاہ اس کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، فلاں ملک کا بادشاہ تھا، میں نے اپنے متعلق ایک مرتبہ غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری حکومت تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور اس حکومت کی وجہ سے میں اپنے رب کی عبادت سے محروم ہوں، اس لئے میں اپنی حکومت چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گیا ہوں تاکہ اپنے رب کی عبادت کر سکوں۔ وہ بادشاہ کہنے لگا کہ آپ نے جو کچھ کیا، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ وہ اپنی سواری سے اترا، اسے جنگل میں چھوڑا اور اس کی اتباع اختیار کر لی، اور وہ دونوں اکٹھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، ان دونوں نے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ ان دونوں کو موت اکٹھی آئے، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مصر کے اس چھوٹے سے ٹیلے پر ہوتا تو تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی علامات ذکر فرمائی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4312]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، وعبدالرحمن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: فَسَكَتُّ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَزَادَنِي.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4313]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 527، م: 85، المسعودي- و إن سمع منه يزيد وأبو النضر بعد الاختلاط - متابع بشعبة فى الرواية: 4186.
حدیث نمبر: 4314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّد مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ مَضَى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا، لَمْ يَبْلُغُوا حِنْثًا، كَانُوا لَهُمَا حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: مَضَى لِي اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ: فَقَالَ أُبَيٌّ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: مَضَى لِي وَاحِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَوَاحِدٌ، وَذَلِكَ فِي الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو دو بچے آ گے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب بھی یہی حکم ہے، البتہ اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے“ (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کر لیتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4314]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.