مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ... مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3628]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ والأعمش ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ"، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، فَطَارَ. قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ، مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ: أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلَكَةٍ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَأَضَلَّهَا، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ، فَأَمُوتُ فِيهِ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ".
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے، اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گزرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہو جائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چنانچہ وہ اپنی جگہ آ جائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آ جائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3629]
حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، وهما مكرر ما قبلهما
حدیث نمبر: 3630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3630]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3335، م: 1677
حدیث نمبر: 3631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وَيَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ الْمَعْنَى، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ" أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3631]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 852، م: 707
حدیث نمبر: 3632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى؟" قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ، وَاسْتَأْنِ بِهِمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْظُرْ وَادِيًا كَثِيرَ الْحَطَبِ، فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ، ثُمَّ أَضْرِمْ عَلَيْهِمْ نَارًا، قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعْتَ رَحِمَكَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ، حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيَشُدُّ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ، حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة إبراهيم آية 36، وَمَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى، قَالَ: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ، قَالَ: رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا سورة نوح آية 26، وَإِنَّ مِثْلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى، قَالَ: رَبِّ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ، أَنْتُمْ عَالَةٌ، فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ، أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَسَكَتَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ، أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ:" إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ"، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 67 - 68.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر ہو چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ”ان قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجئے اور ان سے مانوس ہونے کی کوشش کیجئے، شاید اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو جائے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان لوگوں نے آپ کو نکالا اور آپ کی تکذیب کی، انہیں قریب بلا کر ان کی گردنیں اتار دیجئے، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کوئی ایسی وادی تلاش کیجئے جہاں لکڑیاں زیادہ ہوں، انہیں اس وادی میں داخل کر کے ان لکڑیوں کو آگ لگا دیں، اس پر عباس کہنے لگے کہ تم نے رشتہ داری کو ختم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کریں گے، کچھ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دیئے جانے کی رائے ظاہر کی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے معاملے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کر دیتا ہے حتی کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں، اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتے ہیں کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ بڑے غالب، حکمت والے ہیں، اور عمر! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: پروردگار! زمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی باقی نہ چھوڑ، اور عمر! تمہاری مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے دعا کی تھی: پروردگار! ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ ایمان ہی نہ لا سکیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ تم لوگ ضرورت مند ہو اور ان میں سے کوئی شخص فدیہ یا قتل کے بغیر واپس نہیں جائے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے منہ سے نکل گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ میں نے انہیں اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، مجھے اس دن سے زیادہ کبھی اس بات کا خوف محسوس نہیں ہوا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر کوئی پتھر نہ گر پڑے، یہاں تک کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا: ”سوائے سہیل بن بیضاء کے“، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ o لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [الأنفال: 67-68] » ”نبی کے لئے یہ بات مناسب نہ تھی کہ اپنے پاس قیدی رکھیں، یہاں تک کہ زمین میں خون ریزی نہ کر لیں، تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے، اگر اللہ کے یہاں پہلے سے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے کے معاملے میں تم پر بڑا سخت عذاب آ جاتا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3632]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ"، وَقَالَ فِي قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ: قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِتْرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَقَوْمُكَ، تَجَاوَزْ عَنْهُمْ، يَسْتَنْقِذْهُمْ اللَّهُ بِكَ مِنَ النَّارِ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ، فَأَضْرِمْهُ نَارًا، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3633]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3634
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْدَاءُ اللَّهِ، كَذَّبُوكَ، وَآذَوْكَ، وَأَخْرَجُوكَ، وَقَاتَلُوكَ، وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ، فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا، ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: سَهْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3634]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَإِ أَخْمَاسًا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت پانچ حصوں پر تقسیم کر کے مقرر فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3635]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، و خشف مجهول
حدیث نمبر: 3636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ، وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَلَا التَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گلی گلی پھرنے والا، ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لے کر لوٹنے والا مسکین نہیں ہوتا، اصل مسکین وہ عفیف آدمی ہوتا ہے جو لوگوں سے نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنے ضرورت مند ہونے کا احساس ہونے دیتا ہے کہ کوئی اسے خیرات دے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3636]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري
حدیث نمبر: 3637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ، قَبْلَ مِيقَاتِهَا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3637]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289