مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. حَدِيثُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى".
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15832]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6848، م: 1708
حدیث نمبر: 15833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ وَلَمْ يَشُكَّ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْمُصَلَّى، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي طَعَامٍ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ أَوْ مُخْتَلِفٌ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا".
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ نقیع کی طرف جارہے تھے راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے غلے میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں دھوکہ نظر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15833]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جميع بن عمير ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه عند المتابعة حسن الحديث
حدیث نمبر: 15834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ : حَدِّثْ , فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا جَلْدَ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15834]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6848، م: 1708 ، سماع ابن لهيعة من بكير بن عبدالله ممكن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع، سمع يحيى بن إسحاق من ابن لهيعة بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 15835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". وَكَانَ لَيْثٌ حَدَّثَنَاهُ بِبَغْدَادَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِصْرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَاه بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ .
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15835]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6848، م: 1708
حدیث نمبر: 15836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ وَائِلٍ ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ؟ فَقَالَ:" بَيْعٌ مَبْرُورٌ، وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ".
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے افضل کمائی کے متعلق پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مقبول تجارت اور انسان کا اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرنا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15836]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وغلط فيه فى موضعين: قوله: جميع بن عمير ، وإنما هو سعيد بن عمير ، وقد رواه موصولاً والصواب مرسل
حدیث نمبر: 15837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَسَنٍ بَيْنَنَا ابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَدْ نَصَبْنَا لَهُ أَيْدِيَنَا، فَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا دَاخِلَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبها ابْنَ نِيَارٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: ائْتِنِي , فَأَتَاهُ: فَقَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا يَتَوَكَّأُ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ".
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ اور زید بن حسن چلے آرہے تھے ہمارے درمیان ابن رمانہ اس طرح چل رہے تھے کہ ہم نے ان کی خاطر اپنے کندھے سیدھے کر رکھے تھے اور وہ ان پر سہارا لئے ہوئے مسجد میں نبوی میں داخل ہو رہے تھے کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سیدنا ابوبردہ بن نیار بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھے بلابھیجا میں ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے کہ میں نے تمہارے درمیان ابن رمانہ کو دیکھا جو تم پر اور زید بن حسن پر سہارا لئے چل رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا اس وقت فنا نہ ہو گی جب تک وہ کمینہ ابن کمینہ کی نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15837]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
184. حَدِيثُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15838
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدًا، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ".
سیدنا ابوسعید بن ابی فضالہ جو کہ صحابی ہیں سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اس دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک وشبہ نہیں تو ایک منادی آواز لگائے گا جو شخص کسی عمل میں اللہ کے لئے شریک ٹھہراتا ہواسے چاہیے کہ اس کا ثواب بھی اسی سے طلب کر ے کیونکہ اللہ تمام شرکاء سے زیادہ شرک سے بیزار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15838]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
185. حَدِيثُ سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15839
(حديث مرفوع) حدثنا يَعْقُوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ ، أَنَّهُ قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا رَدِيفُهُ:" يَا سُهَيْلُ ابْنَ بَيْضَاءَ" رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ مِرَارًا، حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَنَا وَأَمَامَنَا، فَاجْتَمَعُوا، وَعَلِمُوا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِشَيْءٍ:" إِنَّهُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ، وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ".
سیدنا سہیل بن بیضاء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ بلند آواز سے پکار کر فرمایا: اے سہیل بن بیضا میں ہر مرتبہ لبیک کہتا رہا یہ آواز لوگوں نے بھی سنی اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھی یہ بات سنانا چاہتے ہیں چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتاہواللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے گا اور اس کے لئے جنت کو واجب کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15839]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يدرك سهيل بن بيضاء
حدیث نمبر: 15840
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15840]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يدرك سهيل بن بيضاء
186. حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15841
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ , قَالَ:" كَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ يَهُودَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا مِنْ بَيْتِهِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ، فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ سَلَمَةُ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا، عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعًا فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي، فَذَكَرَ الْبَعْثَ , وَالْقِيَامَةَ , وَالْحِسَابَ , وَالْمِيزَانَ , وَالْجَنَّةَ , وَالنَّارَ، فَقَالَ: ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ شِرْكٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ، فَقَالُوا لَهُ: وَيْحَكَ يَا فُلَانُ، تَرَى هَذَا كَائِنًا إِنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ، يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ؟! قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَوَدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدُّنْيَا يُحَمُّونَهُ، ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطْبَقُ بِهِ عَلَيْهِ، وَأَنْ يَنْجُوَ مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا. قَالُوا لَهُ: وَيْحَكَ , وَمَا آيَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ، قَالُوا: وَمَتَى تَرَاهُ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ يُدْرِكْهُ , قَالَ سَلَمَةُ: فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَآمَنَّا بِهِ، وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا، فَقُلْنَا: وَيْلَكَ يَا فُلَانُ! أَلَسْتَ بِالَّذِي قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَيْسَ بِهِ".
سیدنا سلمہ بن سلامہ جو کہ اصحاب بدر میں تھے سے مروی ہے کہ بنو عبدالاشہل میں ہمارا ایک یہو دی پڑوسی تھا ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس آیا اور بنو عبدالاشہل کی مجلس کے پاس پہنچ کر رک گیا میں اس وقت نوعمر تھا میں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اور میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا وہ یہو دی دوبارہ زندہ ہوتے قیامت، حساب کتاب، میزان عمل اور جنت و جہنم کا تذکر ہ کرنے لگا یہ بات وہ ان مشرک اور بت پرست لوگوں سے کہہ رہا تھا جن کی رائے میں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں ہو نی تھی اس لئے وہ اس سے کہنے لگے اے فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور انہیں جنت و جہنم نامی جگہ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے اعمال کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ دنیا میں ایک بہت بڑا تنور خوب دہکایا جائے گا اور مجھے اس میں داخل کر کے اسے اوپر سے بند کر دیا جائے گا اور اس کے بدلے کل کو جہنم کی آگ سے نجات دیدی جائے گی اور وہ لوگ کہنے لگے کہ اس کی علامت کیا ہے اس نے جواب دیا کہ اس کی علامت ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان علاقوں سے مبعوث ہو گا یہ کہہ کر اس نے مکہ مکر مہ یمن کی طرف اشارہ کیا انہوں نے پوچھا کہ وہ کب ظاہر ہو گا اس یہو دی نے مجھے دیکھا کیونکہ میں ان میں سب سے زیادہ چھوٹا تھا اور کہنے لگا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو انہیں ضرور پالے گا۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ ابھی دن رات کا چکر ختم نہیں ہوا تھا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا وہ یہو دی بھی اس وقت تک ہمارے درمیان زندہ تھا ہم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے لیکن وہ سرکشی اور حسد کی وجہ سے کفر پر اڑا رہا ہم نے اس سے کہا کہ فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو وہی نہیں ہے جس نے اس پیغمبر کے حوالے سے اتنی لمبی تقریر کی تھی اس نے کہا کیوں نہیں لیکن میں ان پر ایمان نہیں لاؤں گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15841]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن