🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
187. حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ أَخُو عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَاعَ عَقَارًا كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ أَوْ غَيْرِهِ".
سیدنا سعید بن حریث سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی جائیداد بیچ دے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے مال میں برکت نہ رکھی جائے الاّ یہ کہ وہ اسے اسی کام میں لگا دے یا کوئی اور جائیداد خرید لے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15842]

الحكم على الحديث:
حديث حسن بمتابعاته وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
188. حَدِيثُ حَوْشَبٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ ، أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ، فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبٌ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ؟ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَبَّ أَوْ دَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ، فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَرَى فُلَانًا!" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ، فَوَجَدَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَأَنْشَطِ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَحَدّ الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالُ لَكَ: ادْخُلْ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ؟".
حسان بن کر یب کہتے ہیں کہ ان کا ایک غلام فوت ہو گیا اس کے باپ کو اس پر انتہائی صدمہ ہوا اس کی ہی کیفیت دیکھ کر سیدنا حوشب نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے بیٹے جیسے بچے کے متعلق سنی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا بیٹاچلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تھا وہ اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے کچھ عرصہ بعد وہ بچہ فوت ہو گیا اس کے صدمے میں اس کا باپ چھ دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے پوچھا کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے جس کا اسے انتہائی صدمہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے فلاں شخص یہ بتاؤ اگر تمہارا بیٹا اس وقت تمہارے پاس ایک چست و چالاک بچے کی طرح ہوتا کیا تم اس بات کو پسند کرتے کہ تمہارا بچہ جرات میں جنت کے غلمان کی طرح تمہارے لئے باعث اجروثواب بنتا ہے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارا بچہ بہترین بڑھاپے کی عمر کو پہنچتا یا یہ بات کہ تم سے کہا جائے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ یہ ثواب ہے اس چیز کا جو تم سے لے لی گئی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15843]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
189. حَدِيثُ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: قَالَ أَبِي كَمَا حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْب الْجُهَنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَالِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي مُلَوَّحٍ بِالْكَدِيدِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ، فَخَرَجَ، فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ، فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا بِهِ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيُّ، فَأَخَذْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ، فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ مُسْلِمًا، فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ , قَالَ: فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا، ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا، فَقَالَ: امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ، فَإِنْ نَازَعَكَ، فَاجْتَزَّ رَأْسَهُ. قَالَ: ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ، فَنَزَلْنَا عُشَيْشِيَةً بَعْدَ الْعَصْرِ، فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي فِي رَئِيَّةٍ، فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ، فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ الْمَغْرِبَ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَنَظَرَ، فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ , قَالَ: فَنَظَرَتْ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ مَا أَفْقِدُ شَيْئًا , قَالَ: فَنَاوِلِينِي قَوْسِي وَسَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِي، قَالَ: فَنَاوَلَتْهُ، فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي، قَالَ: فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ، ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ، فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي، فَنَزَعْتُهُ، فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ , فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ، وَلَوْ كَانَ زَائِلَةً لَتَحَرَّكَ، فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ، فَخُذِيهِمَا، لَا تَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ. قَالَ: وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ، حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَعَطَنُوا أَوْ سَكَنُوا، وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، شَنَنَّا عَلَيْهِمْ الْغَارَةَ، فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ، وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ، فَتَوَجَّهْنَا قَافِلِينَ , وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُغَوِّثًا، وَخَرَجْنَا سِرَاعًا، حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا، وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ، فَجَاءَنَا مَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي، أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ حَيْثُ شَاءَ، مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا، فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهِ، فَلَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَنَحْنُ نُحَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمَشْلَلِ، ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا، فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا".
سیدنا جندب بن مکیث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غالب بن عبداللہ کلبی کو بنو ملوح کے پاس جو مقام قدید میں رہتے تھے بھیجا اور ان پر شب خون مارنے کا حکم دیا وہ روانہ ہوئے اس دستے میں میں بھی شریک تھا ہم چلتے رہے جب مقام قدید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن مالک مل گئے ہم نے انہیں پکڑ لیا وہ کہنے لگا کہ میں تو اسلام قبول کرنے کے لئے آرہا تھا سیدنا غالب نے فرمایا: اگر تم واقعی مسلمان ہو نے کے لئے آرہے تھے تو یہ ایک دن کی قید تمہارے لئے کسی طرح نقصان دہ نہیں ہو گی اور اگر کسی دوسرے ارادے سے آرہے تھے تو ہم نے تمہیں باندھ لیا ہے یہ کہہ کر انہوں نے حارث کی مشکیں کس دیں اور ایک حبشی کو جو ہمارے ساتھ تھا ان پر نگران مقرر کر کے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور اس سے یہ کہہ دیا کہ تم یہیں رکو تاآنکہ ہم واپس آجائیں اس دوران اگر یہ تم سے مزاحمت کرنے کی کوشش کر ے تو اس کا سر قلم کر دینا۔ اس کے بعد ہم لوگ روانہ ہوئے اور بطن قدیدہ میں پہنچ کر نماز عصر کے بعد مقام عشیشہ میں پڑاؤ کیا مجھے میرے ساتھیوں نے ایک اونچی جگہ پر بھیج دیا میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا تاکہ میں ہر آنے جانے والے پر نظر رکھ سکوں میں مغرب کے وقت اس پر چڑھا تھا دشمن کا ایک آدمی باہر نکلا اور اس نے مجھے ٹیلے پر چڑھے ہوئے دیکھ لیا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے اس ٹیلے پر انسانی سایہ دکھائی دے رہا ہے جو میں نے دن کے پہلے حصے میں نہیں دیکھا تھا دیکھو کہیں کتوں نے تمہارے برتن گھسیٹ کر باہر تو نہیں پھینک دیئے اس نے دیکھ کر کہا کہ واللہ مجھے تو کوئی چیز کم محسوس نہیں ہو رہی اس نے کہا کہ پھر مجھے کمان اور میرے ترکش میں دو تیر لا کر دو اس نے اسے یہ چیزیں لا کر دے دیں اور اس نے تاک کر مجھے ایک تیر دے مارا جو میرے پہلو پر آ کر لگا میں نے اسے کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی اس نے دوسرا تیر بھی مجھے مارا جو میرے کندھے کی جڑ میں آ کر لگا میں نے اسے بھی کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی یہ دیکھ کر وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ اسے میرے دونوں تیر لگے ہیں اگر یہ کوئی جاندار چیز ہو تی تو حرکت ضرور کر تی اس لئے صبح ہو نے کے بعد تم میرے تیر تلاش کر کے لے آنا تاکہ کتے اسے میرے ہی خلاف استعمال نہ کر یں ہم نے ان لوگوں کو اسی طرح مہلت دی یہاں تک کہ رات نے اپنے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیئے جب ان لوگوں نے جانوروں کا دودھ دوہ لیا اونٹوں کو باند ھ دیا اور خود آرام کرنے لگے اور رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا کچھ لوگ ہمارے ہاتھوں مارے گئے اور اس کے بعد ہم نے جانوروں کو ہانکا اور واپس روانہ ہو گئے۔ ادھر ان لوگوں کا منادی چیخ چیخ کر لوگوں کو مدد کے لئے پکارنے لگا ہم لوگ تیزی سے چلے جارہے تھے یہاں تک کہ ہم حارث بن مالک اور اس کے ساتھی کے پاس پہنچ گئے اور انہیں بھی ساتھ لے کر روانہ ہوئے اسی اثناء میں لوگوں کے جوش و خروش سے بھرپور نعروں کی آواز سنائی دینے لگی جب ہمارے اور ان کے درمیان صرف بطحن وادی کی آڑ رہ گئی تو اچانک بارش شروع ہو گئی جو ہمارے اور ان کے درمیان حائل تھی اور جسے اللہ نے ہمارے لئے بھیج دیا ہم نے اس سے پہلے ایسی بارش دیکھی اور نہ اب تک اتنی بارش ہوئی ہے کوئی بھی اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ہم نے انہیں دیکھا کہ وہ کھڑے ہوئے اور ہمیں دیکھ رہے ہیں لیکن کسی کی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ سکے جبکہ ہم تیزی سے اپنی چیزوں کو سمیٹتے ہوئے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم لوگ مشلل نامی جگہ پر پہنچے اور وہاں سے نیچے اتر آئے اور دشمن کو اپنے قبضے میں موجود جانوروں کو حاصل کرنے سے عاجز کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15844]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، مسلم بن عبدالله بن خبيب الجهني مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
190. حَدِيثُ سُوَيدِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ، أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ"، وَقَالَ رَوْحٌ فِي بَيْتِهِ وَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سوید بن ھمبیرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کے لئے سب سے بہترین مال بکری کا وہ بچہ ہے جو اس کے لئے حلال ہو یا وہ سکہ پیسے جو رائج الوقت ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15845]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، إياس بن زهير مجهول ثم إنه مرسل، سويد بن هبيرة تابعي ليست له صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
191. حَدِيثُ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: مَرَّ بِقَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي الْجِزْيَةِ بِفِلَسْطِينَ، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا".
ایک مرتبہ فلسطین میں سیدنا ابن حزام کا گزر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں جزیہ ادانہ کرنے کی وجہ سے سزادی جارہی تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15846]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
192. حَدِيثُ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ".
سیدنا مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ وہ ہجرت پر بیعت کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ اسلام پر بیعت کر لے گا کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا اور یہ نیکی کی پیروی کرنے والا ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15847]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتْ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَاذَا؟ قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
سیدنا مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا میں نے عرض کیا: پھر کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اور جہاد پر۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15848]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ:2962 ، م: 1863
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ الْبَهْزِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ أَخِيهِ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ"، قَالَ:" وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ".
سیدنا مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ وہ ہجرت پر بیعت کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ اسلام پر بیعت کر لے گا کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا اور یہ نیکی کی پیروی کرنے والا ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15849]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُودٍ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ".
سیدنا مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مجال ابن مسعود ہیں جو ہجرت پر آپ سے بیعت کرنا چاہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا البتہ میں اسلام پر اس سے بیعت لے لیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15850]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا" , فَقُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ". قَالَ: فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرُهُمَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ.
سیدنا مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا میں نے عرض کیا: پھر کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اور جہاد پر۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15851]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4305، م: 1863
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں