مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
202. حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15871
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبَيْنِ مُعَلِّقُهُمَا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15871]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
203. حَدِيثُ أَبِي رَوْحٍ الْكَلَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي رَوْحٍ الْكَلَاعِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الرُّومِ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ بَعْضُهَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا لَبَسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَإِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ".
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15872]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وإرساله ، أبوروح الكلاعي تابعي
حدیث نمبر: 15873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ، فَقَرَأَ فِيهَا الرُّومَ، فَأَوْهَمَ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15873]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 15874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ مِنْ ذِي الْكَلَاعِ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ، فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّهُ يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أَنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنْ الْوُضُوءَ".
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15874]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، أبو روح ليست له صحبة
204. حَدِيثُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ الْأَشْجَعِيِّ وَالِدِ أَبِي مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِقَوْمٍ:" مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ تَعَالَى، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". حَدَّثَنَا بِهِ يَزِيدُ بِوَاسِطٍ وَبَغْدَادَ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور دیگر معبودان باطلہ کا انکار کرتا ہے اس کی جان مال محفوظ اور قابل احترام ہو جاتے ہیں اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15875]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 23
حدیث نمبر: 15876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِبَغْدَادَ، أَخبرنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ".
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے لئے شہادت کافی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15876]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي" , وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ:" فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ".
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آ کر عرض کرتا کہ یا رسول اللہ! جب میں اپنے پروردگار سے دعا کر وں تو کیا کہا کر وں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما اس کے بعد آپ نے انگھوٹھے کو نکال کر باقی چار انگلیوں کو بند کر کے فرمایا: یہ چیزیں دنیا اور آخرت دونوں کے لئے جامع ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15877]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2697
حدیث نمبر: 15878
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِلْقَوْمِ:" مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور دیگر معبودان باطلہ کا انکار کرتا ہے اس کی جان مال محفوظ اور قابل احترام ہو جاتے ہیں اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15878]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 23
حدیث نمبر: 15879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ، إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.
ابومالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا طارق سے پوچھا کہ اباجان آپ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے سیدنا ابوبکر کے پیچھے اور عمروعثمان اور یہاں کوفہ میں تقریبا پانچ سال تک سیدنا علی کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے کیا یہ حضرات قنوت پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا: بیٹا یہ نو ایجاد چیز ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15879]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي".
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی اس نے مجھ ہی کو دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15880]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يعلم سماع حسين بن محمد منه، أكان قبل الاختلاط أم بعده