مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
298. حَدِیث عروَةَ بنِ مضَرِّسِ بنِ اَوسِ بنِ حَارِثَةَ بنِ لَام رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه ...
حدیث نمبر: 16209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُدْرِكْ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ، فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ، فَأَتَى جَمْعًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ".
سیدنا عروہ بن مضرس سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا ہے واللہ میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج قبول ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کی اور ہمارے ساتھ وقوف کر لیا یہاں تک کہ وہ واپس منیٰ کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کر چکا تھا تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی محنت وصولی ہو گئی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16209]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
299. حَدِیث قَتَادَةَ بنِ النّعمَانِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 16210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ . وعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ فُلَانٍ . وعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَبْلُغْ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةَ كُلَّهَا، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَتَى أَهْلَهُ، فَوَجَدَ قَصْعَةَ ثَرِيدٍ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي حَجٍّ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ"، قَالَ:" وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ، فَكُلُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لُحُومِهَا شَيْئًا، فَكُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ".
سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16210]
الحكم على الحديث:
اسانيده ضعيفه وهى ثلاثه : الاسناد الأول ضعيف للإعضاله، فإن ابن جريج يروي عن التابعين والإسناد الثاني ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، والرجل المبهم هو زبيد بن الحارث، فهو منقطع، لأن زيدا لم يلق احدا من الصحابۃ، والإسناد الثالث ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وقد وقف بعضها على جابر.
حدیث نمبر: 16211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَتَى أَهْلَهُ، فَوَجَدَ قَصْعَةً مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ، وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ، فَكُلُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا، وَلَا تَبِيعُوهَا، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا، فَكُلُوا إِنْ شِئْتُمْ". وقَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَالْآنَ فَكُلُوا، وَاتَّجِرُوا، وَادَّخِرُوا".
سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16211]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وزبيد لم يلق أحدة من الصحابة فهو منقطع
حدیث نمبر: 16212
قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ زُبَيْدٍ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، لَمْ يَبْلُغْهُ كُلُّ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وقد وقف بعضه على جابر
حدیث نمبر: 16213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ تَمِيمٍ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , وَعَمِّهِ قَتَادَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ، وَادَّخِرُوا".
سیدنا ابوسعیدخدری اور سیدنا قتادہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کا گوشت کھاؤ اور ذخیرہ کر و۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16213]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وأبي إِسحاقُ بنُ يسار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ مَوْلَى بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" نَهَانَا عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي، وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ، قَالَ: فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسَاقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا، فَقُلْتُ لَهَا: أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ؟ فَقَالَتْ: مِنْ ضَحَايَانَا. قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: أَوَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ؟ قَالَ: فَقَالَتْ: إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ. قَالَ: فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ فَقَدْ صَدَقَتْ، قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا: تھا کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر پر چلا گیا جب واپس گھر آیا تو بقرعید کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے میری بیوی گوشت میں پکے ہوئے چقندر لے کر آئی میں نے اس سے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا اس نے بتایا کہ قربانی کا ہے میں نے اس سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے ممانعت نہیں فرمائی اس نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اجازت دیدی تھی میں نے اس کی تصدیق نہیں کی اور اپنے بھائی سیدنا قتادہ بن نعمان جو بدری صحابی تھے کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے ایک آدمی کو بھیج دیا انہوں نے مجھے جواب میں کہلابھیجا کہ تم کھانا کھالو تمہاری بیوی صحیح کہہ رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی اجازت دیدی تھی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16214]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
300. حَدِیث رِفَاعَةَ بنِ عَرَابَةَ الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 16215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ" فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَقَالَ حِينَئِذٍ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ" قَالَ:" وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ" وَقَالَ:" إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَا اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي، مَنْ ذَا يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، مَنْ الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ".
سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سے زیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا: اب میں گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہو نے کی گواہی دیتا ہو جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کر ے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہو جائیں۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کر دو کون ہے جو مجھ سے دعا کر ے اور میں اس کی دعا قبول کر و اور کون ہے جو مجھ سے سوال کر ے اور میں اسے عطا کر وں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدیدی پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا سیدنا ابوبکر نے فرمایا: اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا کہ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16215]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16216
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ، وَقَالَ: خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ" وَكَانَ إِذَا حَلَفَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16216]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16217
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِعَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ جَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ خَيْرًا، وَقَالَ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ"، ثُمَّ قَالَ:" وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ"، وَقَالَ:" إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ".
سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سے زیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا: اب میں گواہی دیتا ہوں کہ کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہو نے کی گواہی دیتا ہوا جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کر ے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہو جائیں۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کر دو کون ہے جو مجھ سے دعا کر ے اور میں اس کی دعا قبول کر و اور کون ہے جو مجھ سے سوال کر ے اور میں اسے عطا کر وں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16218]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح