🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
305. حَدِیث هِشَامِ بنِ عَامِر الاَنصَارِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ جَاءَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ"، قَالُوا: فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ؟، قَالَ:" أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٌ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ.
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن انصار کی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئے ہیں اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے کسے رکھیں فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو چنانچہ میرے والد عامر کو ایک یا دو آدمیوں سے پہلے رکھا گیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16259]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ، فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي، افْتُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ، رَبِّي اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، فَلَا يَضُرُّهُ" أَوْ قَالَ:" فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ".
سیدنا ہشام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کا سر پیچھے سے ایسا محسوس ہو گا کہ اس میں راستے بنے ہوئے ہیں سو جو اسے اپنا رب مان لے گا وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا اور جو اس کی تکذیب کر کے کہہ دے گا کہ میرا اللہ میرا رب ہے اور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں تو وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچاسکے گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16260]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من هشام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا، وَوَسِّعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا". فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، فَقُدِّمَ.
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16261]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهِمْ مِنَ الْقَرْحِ، فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَحْسِنُوا، وَأَوْسِعُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، فَمَاتَ أَبِي، فَقُدِّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلَيْنِ.
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16262]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16263
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ گہری کھودو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16263]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16264
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ وَزَادَ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، وَزَادَ فِيهِ" وَأَعْمِقُوا".

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ".
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفے میں دجال سے زیادہ بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16265]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2947، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: قَدِمَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَةَ، فَوَجَدَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ، فَقَامَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً، وَأَخْبَرَنَا أَوْ قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ہشام بن عامر بصرہ آئے تو دیکھا کہ لوگ چاندی کے بدلے میں وظیفہ ملنے تک کی تاریخ پر ادھار سونا لے لیا کرتے تھے سیدنا ہشام بن عامر نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے بدلے ادھار سونا خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ عین سود ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16266]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذه اسناد ضعيف لا نقطاعه، أبو قلابه لم يسمع من هشام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونَ إِلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا أَحْصَى وَلَا أَحْفَظَ لِحَدِيثِهِ مِنِّي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ آدَمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ".
سیدنا ہشام بن عامرنے ایک مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ بارگاہ نبوت میں حاضر باش تھے اور نہ ہی مجھ سے زیادہ احادیث کو یاد رکھنے والے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفہ میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16267]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
306. حَدِیث عثمَانَ بنِ اَبِی العَاصِ الثَّقَفِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُثْمَانُ: وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي، فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ.
سیدنا عثمان بن ابی عاص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے ایسی تکلیف ہوئی جس نے مجھے موت کے قریب پہنچادیا نبی عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر سات مرتبہ یوں کہو، اعوذ با اللہ وقدرتہ من شر ما اجد۔ میں نے ایساہی کیا اور اللہ نے میری تکلیف دور کر دی اس وجہ سے میں اپنے اہل خانہ وغیرہ کو مسلسل اس کی تاکید کرتا رہتاہوں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16268]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2202
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں