مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
305. حديث هشام بن عامر الانصاري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 16259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ جَاءَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ"، قَالُوا: فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ؟، قَالَ:" أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٌ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ.
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن انصار کی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئے ہیں اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے کسے رکھیں فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو چنانچہ میرے والد عامر کو ایک یا دو آدمیوں سے پہلے رکھا گیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16259]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الرواة الحديث:
حميد بن هلال العدوي ← هشام بن عامر الأنصاري