🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

14. باب قول الله تعالى: {وبث فيها من كل دابة} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) ارشاد ”اور ہم نے زمین پر ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3297-2
{مَصْرِفًا} مَعْدِلاً {صَرَفْنَا} أَيْ وَجَّهْنَا.
‏‏‏‏ سورۃ الکہف میں لفظ «مصرفا‏» بمعنی لوٹنے کی جگہ کے ہے۔ سورۃ الجن میں لفظ «صرفنا‏» کا معنی متوجہ کیا، بھیج دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: Q3297-2]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3297
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الثُّعْبَانُ الْحَيَّةُ الذَّكَرُ مِنْهَا يُقَالُ الْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالأَفَاعِي وَالأَسَاوِدُ. {آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا} فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ يُقَالُ: {صَافَّاتٍ} بُسُطٌ أَجْنِحَتَهُنَّ. {يَقْبِضْنَ} يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (قرآن مجید میں) لفظ «ثعبان» نر سانپ کے لیے آیا ہے بعض نے کہا، سانپوں کی کئی قسمیں ہوتی ہے۔ «جان» جو سفید باریک ہو، «أفاعي»، زہر دار سانپ اور «أساود‏.‏» کالا ناگ (وغیرہ) سورۃ ھود میں «آخذ بناصيتها‏.‏» سے مراد یہ ہے کہ ہر جانور کی پیشانی تھامے ہوئے ہے۔ یعنی ہر جانور اس کی ملک اور اس کی حکومت میں ہے۔ لفظ «صافات‏» جو سورۃ الملک میں ہے، اس کے معنی اپنے پر پھیلائے ہوئے اور اسی سورۃ میں لفظ «يقبضن‏» بمعنی اپنے بازوؤں کو سمیٹے ہوئے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: Q3297]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3297
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّه سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو (خصوصاً) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی، کیونکہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3297]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: سانپوں کو مار ڈالو، خصوصاً وہ سانپ جن کے سر پر دو نقطے ہوں اور وہ جو دم بریدہ ہوں کیونکہ یہ دونوں نورِ بصارت زائل کر دیتے ہیں اور حاملہ کا حمل تک گرا دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3297
اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر ويستسقطان الحبل
صحيح مسلم
5826
اقتلوا الحيات والكلاب واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يلتمسان البصر ويستسقطان الحبالى
صحيح مسلم
5825
اقتلوا الحيات وذا الطفيتين والأبتر فإنهما يستسقطان الحبل ويلتمسان البصر
Sahih Bukhari Hadith 3297 in Urdu