صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب رفع الناس أيديهم مع الإمام فى الاستسقاء:
باب: استسقاء میں امام کے ساتھ لوگوں کا بھی ہاتھ اٹھانا۔
حدیث نمبر: 1029
قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ: فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيقُ.
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی (گاؤں کا رہنے والا) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! (بارش بہت ہونے سے) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1029]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مویشی ہلاک، اہل و عیال تباہ ہو گئے اور لوگ مرنے لگے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے، لوگ بھی آپ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نہیں نکلے تھے کہ بارش شروع ہو گئی، پھر یہ بارش دوسرے جمعہ تک جاری رہی۔ تب ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مسافر تنگ آ گئے اور راستے بند ہو گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
Sahih Bukhari Hadith 1029 in Urdu