صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ الدُّعَاءِ فِي الْخُسُوفِ:
باب: سورج گرہن میں دعا کرنا۔
حدیث نمبر: Q1060
قَالَهُ أَبُو مُوسَى، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس کو ابوموسیٰ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: Q1060]
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2974
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2974
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ".
ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن لگا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشان ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ جب اسے دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو اور نماز پڑھو تاآنکہ سورج صاف ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1060]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن جب سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے مشہور کر دیا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں اس حادثے سے دوچار دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2974
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2974
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1060 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1060
حدیث حاشیہ:
بعض حضرات کا خیال ہے کہ سورج گرہن کے وقت ذکر و دعا کرنے سے مراد نماز پڑھنا ہے، کیونکہ یہ دونوں نماز کے اہم اجزاء سے ہیں، لیکن حدیث ابی بکرہ میں ہے کہ سورج گرہن کے وقت نماز پڑھو اور دعا مانگو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے موقع پر دعا اور ذکر کرنا مستقل طور پر مطلوب ہیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ ایسے موقع پر اللہ کا ذکر کرو، اس کی کبریائی بیان کرو اور تسبیح و تہلیل کرو۔
(فتح الباري: 705/2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ سورج گرہن کے وقت ذکر و دعا کرنے سے مراد نماز پڑھنا ہے، کیونکہ یہ دونوں نماز کے اہم اجزاء سے ہیں، لیکن حدیث ابی بکرہ میں ہے کہ سورج گرہن کے وقت نماز پڑھو اور دعا مانگو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے موقع پر دعا اور ذکر کرنا مستقل طور پر مطلوب ہیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ ایسے موقع پر اللہ کا ذکر کرو، اس کی کبریائی بیان کرو اور تسبیح و تہلیل کرو۔
(فتح الباري: 705/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1060]
Sahih Bukhari Hadith 1060 in Urdu
زياد بن علاقة الثعلبي ← المغيرة بن شعبة الثقفي