Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب يبدأ بميامن الميت:
باب: اس بیان میں کہ (غسل) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1255
فَقَالَ أَيُّوبُ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا وَكَانَ فِيهِ ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سَبْعًا، وَكَانَ فِيهِ , أَنَّهُ قَالَ: ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا"، وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
‏‏‏‏ ایوب نے کہا کہ مجھ سے حفصہ نے بھی محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح بیان کیا تھا۔ حفصہ کی حدیث میں تھا کہ طاق مرتبہ غسل دینا اور اس میں یہ تفصیل تھی کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ (غسل دینا) اور اس میں یہ بھی بیان تھا کہ میت کے دائیں طرف سے اعضاء وضو سے غسل شروع کیا جائے۔ یہ بھی اسی حدیث میں تھا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1255]

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيلثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة ثبتت حجة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ:" ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← خالد الحذاء
ثقة حجة حافظ
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1255 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1255
حدیث حاشیہ:
ہر اچھاکام دائیں طرف سے شروع کرنا مشروع ہے اور اس بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1255]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1255
حدیث حاشیہ:
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرتے تھے اور آپ کو دائیں جانب پسند ہوتی تھی۔
امام بخاری ؒ نے عنوان مطلق رکھا ہے تاکہ غیر غسل کو غسل پر قیاس کیا جا سکے۔
حدیث میں دائیں اطراف اور مقامات وضو کا ذکر ہے۔
ان دونوں میں منافات نہیں کیونکہ بعض اوقات دائیں اطراف اور مقامات وضو کو بیک وقت بھی دھویا جا سکتا ہے، پھر جو اعضاء وضو میں نہیں دھوئے جاتے غسل کے وقت ان کی دائیں جانب کو دھویا جائے۔
دراصل امام بخاریؒ، ابو قلابہ کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت پہلے سر پھر داڑھی سے آغاز کیا جائے۔
(فتح الباري: 168/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1255]