🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب مواضع الوضوء من الميت:
باب: اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا: ابْدَأَنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطيةصحابية
👤←👥حفصة بنت سيرين الأنصارية، أم الهذيل
Newحفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← حفصة بنت سيرين الأنصارية
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← خالد الحذاء
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1256 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1256
حدیث حاشیہ:
اس سے معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرا کے وضو کرایا جائے اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ثابت ہوا پھر غسل دلایا جائے اور غسل دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1256]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1256
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل سے پہلے میت کو وضو کرانا چاہیے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرایا جائے اور وضو میں کلی کرانا اور اس کے ناک میں پانی ڈالنا بھی مستحب ہے اور یہ وضو، غسل کا ایک حصہ ہے۔
(فتح الباري: 168/3)
وضو کراتے وقت اس کے منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کیونکر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کو روئی وغیرہ سے صاف کیا جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1256]

Sahih Bukhari Hadith 1256 in Urdu