علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب مواضع الوضوء من الميت:
باب: اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے۔
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا: ابْدَأَنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1256 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1256
حدیث حاشیہ:
اس سے معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرا کے وضو کرایا جائے اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ثابت ہوا پھر غسل دلایا جائے اور غسل دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرا کے وضو کرایا جائے اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ثابت ہوا پھر غسل دلایا جائے اور غسل دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1256]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1256
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل سے پہلے میت کو وضو کرانا چاہیے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرایا جائے اور وضو میں کلی کرانا اور اس کے ناک میں پانی ڈالنا بھی مستحب ہے اور یہ وضو، غسل کا ایک حصہ ہے۔
(فتح الباري: 168/3)
وضو کراتے وقت اس کے منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کیونکر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کو روئی وغیرہ سے صاف کیا جائے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل سے پہلے میت کو وضو کرانا چاہیے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے استنجا وغیرہ کرایا جائے اور وضو میں کلی کرانا اور اس کے ناک میں پانی ڈالنا بھی مستحب ہے اور یہ وضو، غسل کا ایک حصہ ہے۔
(فتح الباري: 168/3)
وضو کراتے وقت اس کے منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کیونکر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کو روئی وغیرہ سے صاف کیا جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1256]
Sahih Bukhari Hadith 1256 in Urdu
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية