🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب القيام للجنازة:
باب: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ"، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , زَادَ الْحُمَيْدِيُّ حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم نے ‘ ان سے ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘ ان سے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے۔ سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے خبر دی تھی۔ حمیدی نے یہ زیادتی کی ہے۔ یہاں تک کہ جنازہ آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عامر بن ربيعة العنزي
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد الله
Newعامر بن ربيعة العنزي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عامر بن ربيعة العنزي
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1307
إذا رأيتم الجنازة فقوموا حتى تخلفكم
صحيح البخاري
1308
إذا رأى أحدكم جنازة فإن لم يكن ماشيا معها فليقم حتى يخلفها أو تخلفه أو توضع من قبل أن تخلفه
صحيح مسلم
2217
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم أو توضع
جامع الترمذي
1042
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم أو توضع
سنن أبي داود
3172
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم أو توضع
سنن ابن ماجه
1542
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم أو توضع
سنن النسائى الصغرى
1916
إذا رأى أحدكم الجنازة فلم يكن ماشيا معها فليقم حتى تخلفه أو توضع من قبل أن تخلفه
سنن النسائى الصغرى
1917
إذا رأيتم الجنازة فقوموا حتى تخلفكم أو توضع
مسندالحميدي
142
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم أو توضع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1307 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1307
حدیث حاشیہ:
(1)
جنازے کے لیے قیام کی دو قسمیں ہیں:
٭ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا۔
٭ جنازے کے ہمراہ جانے والے کھڑے رہیں۔
اس عنوان میں امام بخاری ؒ نے جنازے کے لیے قیام کی پہلی قسم کو بیان کیا ہے۔
ابتدائی دور نبوت میں جنازہ سامنے آنے پر کھڑے ہوتے تھے، پھر اس قیام کو ترک کر دیا گیا، اس لیے اب یہ قیام ضروری نہیں، جیسا کہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا تھا، پھر اس کے بعد آپ بیٹھنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔
(مسند أحمد: 82/1)
اسی طرح حضرت حسن اور حضرت ابن عباس ؓ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو حضرت حسن ؓ کھڑے ہو گئے لیکن حضرت ابن عباس ؓ بیٹھے رہے، حضرت حسن نے فرمایا:
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوتے تھے؟ اس پر سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کھڑے ہوتے تھے پھر آپ نے بیٹھنا شروع کر دیا۔
(سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1925)
ان احادیث کی وجہ سے اگر کوئی جنازہ دیکھ کر بیٹھا رہے تو جائز ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1307]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3172
میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم جنازے کو دیکھو تو (اس کے احترام میں) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا (زمین پر) رکھ دیا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3172]
فوائد ومسائل:
لیکن دوسری روایات میں ہے کہ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھنے کا حکم د ے دیا۔
اس لئے شیخ البانی وغیرہ نے کھڑے ہونے کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے اور بعض علماء نے دونوں ہی باتوں کا جواز تسلیم کیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3172]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1542
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان۔
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1542]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
جب کوئی شخص راستے میں بیٹھا ہو۔
اور جنازہ آ جائے تو اسے چاہیے کہ کھڑا ہوجائے۔
جب جنازہ گزر جائے تو بیٹھ جائے۔

(2)
حضرت عبد اللہ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کھڑے نہیں ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1544)
 لیکن ان دونوں احادیث کو اس طرح بھی جمع کیا جاسکتا ہے کہ کھڑا ہونا واجب قرار نہ دیا جائے۔
بلکہ اسے مستحب (بہتر)
کہا جائے۔

(3)
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے میں کیا حکمت ہے؟ حدیث میں اس کے دو اسباب ذکر ہوئے ہیں۔
ایک یہ کہ موت ایک ایسی چیزہے۔
جس کی وجہ سے انسان غمگین اور پریشان ہوتا ہے۔
اور آخرت کی یاد سے دل پرخوف طاری ہوتا ہے۔
اس کے اظہار کےلئے جنازہ دیکھ کرکھڑے ہونا چاہیے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1543)
 دوسری وجہ ان فرشتوں کا احترام ہے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔
سنن نسائی میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمایا میں فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوں- (سنن نسائي، الجنائز، باب الرخصة فی ترک القیام، حدیث: 1931)

(4)
جولوگ جنازے کے ساتھ ہوں۔
وہ اس وقت تک نہ بیٹھیں جب تک چارپائی زمین پر نہ رکھ دی جائے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ۔
  جو اس (جنازے)
کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ (چارپائی کو زمین پر)
رکھ دیا جائے (صحیح البخاري، الجنائز، باب من تبع جنازۃ فلا یقعد حتی توضع عن مناکب الرجال فإن قعد أمر بالقیام، حدیث: 1310)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1542]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:142
142- سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے یا اسے رکھ دیا جائے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:142]
فائدہ:
اس حدیث میں ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاؤ لیکن یہ حدیث منسوخ ہے، اس کی ناسخ حدیث سنن ابی داود (2719) اور سنن ابن ماجہ (1545) ہے، اب جنازہ دیکھ کر بیٹھے رہنا درست ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 142]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1308
1308. حضرت عام بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو خواہ اس کےساتھ نہ جائے مگر کھڑا ضرورہو جائے حتی کہ وہ جنازے کو پیچھے چھوڑدے یا جنازہ اسے پیچھے چھوڑجائے یا پیچھے چھوڑنے سے قبل جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1308]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ بیٹھے ہوئے انسان کے پاس جب جنازہ آئے تو اسے کھڑے ہو جانا چاہیے جب تک وہ اسے پیچھے نہ چھوڑ دے یا اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔
محدثین نے اس کی مختلف وجوہات لکھی ہیں۔
بعض کا خیال ہے کہ موت سے گھبراہٹ کی بنا پر کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ جنازہ دیکھ کر موت یاد آ جاتی ہے۔
بعض نے کہا کہ اس کے ہمراہ فرشتے ہوتے ہیں ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، لیکن اس کی علت جو بھی ہو ہمارے نزدیک جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم پہلے تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرکار اس پر عمل درآمد روک دیا تھا، اس کے باوجود بعض صحابہ کرام ؓ سے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا عمل منقول ہے۔
ممکن ہے کہ انہیں اس ترک کی خبر نہ ملی ہو۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1308]