🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب الحج على الرحل:
باب: پالان پر سوار ہو کر حج کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ:" حَجَّ أَنَسٌ عَلَى رَحْلٍ وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ".
محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عزرہ بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ایک پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپ بخیل نہیں تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، اسی پر آپ کا اسباب بھی لدا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثمامة بن عبد الله الأنصاري
Newثمامة بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عزرة بن ثابت الأنصاري
Newعزرة بن ثابت الأنصاري ← ثمامة بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عزرة بن ثابت الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن أبي بكر المقدمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي بكر المقدمي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1517 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1517
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ حج میں تکلف کرنا اور آرام کی سواری ڈھونڈناسنت کے خلاف ہے۔
سادے پالان پر چڑھنا کافی ہے۔
شغدف اور محمل اور عمدہ کجاوے اور گدے اور تکیے ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔
عبادت میں جس قدر مشقت ہو اتنا ہی زیادہ ثواب ہے۔
(وحیدی)
یہ باتیں آج کے سفر حج میں خواب وخیال بن کر رہ گئی ہیں۔
اب ہر جگہ موٹرکار، ہوائی جہاز دوڑتے پھر رہے ہیں۔
حج کا مبارک سفر بھی ریل، دخانی جہاز، موٹر کار اور ہوائی جہازوں سے ہورہا ہے۔
پھر زیادہ سے زیادہ آرام ہر ہر قدم پر موجود ہے۔
ان تکلّفات کے ساتھ حج اس حدیث کی تصدیق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آخرزمانہ میں سفر حج بھی ایک تفریح کا ذریعہ بن جائے گا۔
لیکن سنت کے شیدائی ان حالات میں بھی چاہیں تو سادگی کے ساتھ یہ مبارک سفر کرتے ہوئے قدم قدم پر خدا ترسی سنت شعاری کا ثبوت دے سکتے ہیں۔
مکہ شریف سے پیدل چلنے کی اجازت ہے۔
حکومت مجبور نہیں کرتی کہ ہر شخص موٹر ہی کا سفر کرے مگر آرام طلبی کی دنیا میں یہ سب باتیں دقیانوسی سمجھی جانے لگی۔
بہرحال حقیقت ہے کہ سفر حج جہاد سے کم نہیں ہے بشرطیکہ حقیقی حج نصیب ہو۔
لفظ زاملہ ایسے اونٹ پر بولا جاتا جو حالت سفر میں علیحدہ سامان اسباب اور کھانے پینے کی اشیاء اٹھانے کے لئے استعمال میں آتا تھا، یہاں راوی کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر مبارک اس قدر سادگی سے کیا کہ ایک ہی اونٹ سے سواری اور سامان اٹھانا ہر دو کام لے لئے گئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1517]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1517
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث مین بھی سفر حج کی سادگی کا بیان ہے کہ حضرت انس ؓ الله کے فضل سے صاحب ثروت تھے اور بخل وکنجوسی سے کوسوں دور رہتے تھے۔
انھوں نے سفر حج کے لیے آرام دہ سواری کا اہتمام نہیں کیا بلکہ سادہ سواری پر سادہ پالان رکھا، اس پر حج مکمل کیا، پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کا حوالہ دیا کہ آپ نے اسی انداز سے حج کیا تھا، اور جس اونٹنی پر سوار تھے اسی پر سفر خرچ اور زادِراہ لادا ہواتھا، اس کے لیے کسی الگ سواری کا اہتمام نہیں کیا۔
(2)
لفظ زاملہ ایسے اونٹ پر بولا جاتا ہے جو حالتِ سفر سامان واسباب اور کھانے پینے کی اشیاء اٹھانے کے لیے استعمال ہو۔
حضرت انس ؓ کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر اس قدر سادگی سے کیا کہ ایک ہی اونٹ پر سواری کی اور اسی پر اپنا سامان وغیرہ لادلیا، اس کے لیے الگ اونٹ کا اہتمام نہیں کیا۔
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ اس وقت لوگ سفر حج پر روانہ ہوتے تو اسی سواری پر اپنا سامان وغیرہ لاد لیتے تھے، حضرت عثمان ؓ نے سامان کے لیے اونٹ کا اہتمام کیا۔
(فتح الباري: 480/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1517]

Sahih Bukhari Hadith 1517 in Urdu