صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب الطيب عند الإحرام وما يلبس إذا أراد أن يحرم ويترجل ويدهن:
باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا اور احرام کے ارادہ کے وقت کیا پہننا چاہئے اور کنگھا کرے اور تیل لگائے۔
حدیث نمبر: Q1537
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَشَمُّ الْمُحْرِمُ الرَّيْحَانَ , وَيَنْظُرُ فِي الْمِرْآةِ , وَيَتَدَاوَى بِمَا يَأْكُلُ الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ , وَقَالَ عَطَاءٌ: يَتَخَتَّمُ وَيَلْبَسُ الْهِمْيَانَ وَطَافَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ حَزَمَ عَلَى بَطْنِهِ بِثَوْبٍ وَلَمْ تَرَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالتُّبَّانِ بَأْسًا لِلَّذِينَ يَرْحَلُونَ هَوْدَجَهَا.
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ محرم خوشبودار پھول سونگھ سکتا ہے۔ اسی طرح آئینہ دیکھ سکتا ہے اور ان چیزوں کو جو کھائی جاتی ہیں بطور دوا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً زیتون کا تیل اور گھی وغیرہ۔ اور عطاء نے فرمایا کہ محرم انگوٹھی پہن سکتا ہے اور ہمیانی باندھ سکتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا اس وقت آپ محرم تھے لیکن پیٹ پر ایک کپڑا باندھا رکھا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جانگئے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد اس حکم سے ان لوگوں کے لیے تھی جو ان کے ہودج کو اونٹ پر کسا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1537]
حدیث نمبر: 1537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ، فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُ؟ , بِقَوْلِهِ:
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سادہ تیل استعمال کرتے تھے (احرام کے باوجود) میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات نقل کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1537]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (دورانِ احرام میں) زیتون کا تیل استعمال کرتے تھے۔ جب میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول (عمل) کو کیا کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران | ثقة | |
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب منصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
Sahih Bukhari Hadith 1537 in Urdu
منصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي