🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب الركوب والارتداف فى الحج:
باب: حج کے لیے سوار ہونا یا سواری پر کسی کے پیچھے بیٹھنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، قَالَ: فَكِلَاهُمَا قَالَ: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، ان سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد جریر بن حازم نے بیان کیا۔ ان سے یونس بن زید نے، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس رضی اللہ عنہما پیچھے بیٹھ گئے تھے، دونوں حضرات نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر تلبیہ کہتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الفضل بن العباس الهاشمي، أبو محمد، أبو العباس، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الكلبي ← الفضل بن العباس الهاشمي
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1543 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1543
حدیث حاشیہ:
(1)
اگرچہ اس حدیث میں میدان عرفات سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منیٰ تک کسی کو سواری پر بٹھانے کا ذکر ہے لیکن پورے سفر حج میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔
ابن منیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس اور اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے باری باری اس لیے بٹھایا تھا تاکہ اس دوران میں جو احکام حج اللہ کی طرف سے نازل ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بجا لائیں یہ حضرات اچھی طرح انہیں یاد کر کے دوسروں تک پہنچائیں۔
(فتح الباري: 510/3) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلبیہ دسویں تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد ختم کر دینا چاہیے، چنانچہ فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں میدان عرفات سے آپ کے ہمراہ تھا۔
آپ تلبیہ کہتے رہے حتی کہ جمرہ عقبہ کو آخری کنکری مارنے کے بعد تلبیہ کہنا بند کر دیا۔
(صحیح ابن خزیمة: 282/4)
نیز اس حدیث سے سواری پر کسی دوسرے کو آپ پیچھے بٹھانے کا جواز ملتا ہے بشرطیکہ سواری کا جانور اس کا متحمل ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1543]