🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب ما جاء فى السعي بين الصفا والمروة:
باب: صفا اور مروہ کے درمیان کس طرح دوڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1648
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، قال: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة؟ , قال: نَعَمْ، لِأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158.
ہم سے احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عاصم احول نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں! کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس
Newأحمد بن محمد المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1648 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1648
حدیث حاشیہ:
مضمون اس روایت کے موافق ہے جو حضرت عائشہ ؓ سے اوپر گزری کہ انصار صفا اور مروہ کی سعی بری سمجھتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1648]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1648
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ثابت ہوا۔
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ صفا اور مروہ پر دو بت تھے۔
مشرکین جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو انہیں چھوتے تھے اور اس جگہ ان کی عبادت بھی کرتے تھے، اس لیے انصار رسم جاہلیت اور عادت مشرکین کی وجہ سے صفا اور مروہ کی سعی کو ناپسند کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ سے ان کی کراہت کو دور فرمایا ہے۔
(2)
اس مضمون کی ایک حدیث حضرت عائشہ ؓ سے بھی مروی ہے، اس کی وضاحت ہم پہلے کر آئے ہیں۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1643)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1648]