🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب أين يصلي الظهر يوم التروية:
باب: آٹھویں ذی الحجہ کو نماز ظہر کہاں پڑھی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، لَقِيتُ أَنَسًا. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ:" خَرَجْتُ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَقِيتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاهِبًا عَلَى حِمَارٍ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ الظُّهْرَ؟ فَقَالَ: انْظُرْ حَيْثُ يُصَلِّي أُمَرَاؤُكَ فَصَلِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے سنا کہ ہم سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے ملا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے کہا کہ میں آٹھویں تاریخ کو منیٰ گیا تو وہاں انس رضی اللہ عنہ سے ملا۔ وہ گدھی پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا دیکھو جہاں تمہارے حاکم لوگ نماز پڑھیں وہیں تم بھی پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1654]
حضرت عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں آٹھویں ذوالحجہ کو منیٰ کی طرف گیا تو وہاں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملا جو گدھے پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: دیکھو! جہاں تمہارے امراء نماز پڑھتے ہیں، وہاں تم بھی نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد العزيز بن رفيع الأسدي، أبو عبد الله
Newعبد العزيز بن رفيع الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عبد العزيز بن رفيع الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن أبان الأزدي، أبو إسحاق، أبو إبراهيم
Newإسماعيل بن أبان الأزدي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← إسماعيل بن أبان الأزدي
صحابي
👤←👥عبد العزيز بن رفيع الأسدي، أبو عبد الله
Newعبد العزيز بن رفيع الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عبد العزيز بن رفيع الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1654 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1654
حدیث حاشیہ:
تشریح:
معلوم ہوا کہ حاکم اور شاہ اسلام کی اطاعت واجب ہے۔
جب اس کاحکم خلاف شرع نہ ہو اورجماعت کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مستحب وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
مگر مستحب امر کے لیے حاکم یا جماعت کی مخالفت کرنا بہتر نہیں۔
ابن منذر نے کہا سنت یہ ہے کہ امام ظہراورعصر اورمغرب اورعشاءاورصبح کی نمازیں منیٰ ہی میں پڑھے اور منیٰ کی طرف ہر وقت نکلنا درست ہے لیکن سنت یہی ہے کہ آٹھویں تاریخ کو نکلے اور ظہر کی نماز منیٰ میں جاکر ادا کرے۔
(وحیدی)
چھٹا پارہ پورا ہوا اوراس کے بعدساتواں پارہ شروع ہے۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1654]

Sahih Bukhari Hadith 1654 in Urdu