🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. باب التلبية والتكبير غداة النحر، حين يرمي الجمرة، والارتداف فى السير:
باب: دسویں تاریخ کو صبح تک تکبیر اور لبیک کہتے رہنا جمرہ عقبہ کی رمی تک اور چلتے ہوئے (سواری پر کسی کو) اپنے پیچھے بٹھا لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، قَالَ: فَكِلَاهُمَا قَالَا:" لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ان سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے یونس ایلی نے، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفات سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی جاتے وقت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل لبیک کہتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الفضل بن العباس الهاشمي، أبو محمد، أبو العباس، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الكلبي ← الفضل بن العباس الهاشمي
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1687 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1687
حدیث حاشیہ:
(1)
قربانی کے دن پہلا کام جمرہ عقبہ کی رمی کرنا ہے۔
رمی کرنے تک تلبیہ اور تکبیر کہتے رہنا چاہیے۔
(2)
اب یہاں تین مسائل بیان کیے جاتے ہیں:
٭ امام بخاری ؒ نے جو روایت پیش کی ہے اس میں تلبیے کا ذکر ہے جبکہ عنوان میں آپ نے تکبیر کو بھی بیان کیا ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ نے عنوان سے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں تکبیر کا بھی ذکر ہے۔
امام احمد نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ ؓ سے بیان کیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلا، آپ نے جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ ترک نہیں فرمایا۔
کبھی کبھی تلبیہ کہتے وقت اللہ أکبر بھی کہتے تھے۔
(مسندأحمد: 417/1)
٭ تلبیہ کب ختم کرنا چاہیے؟ رمی شروع کرتے وقت یا اس کے ختم ہونے کے بعد؟ صحیح ابن خزیمہ میں اس کی وضاحت ہے کہ آخری کنکری مارنے تک تلبیہ جاری رہنا چاہیے، چنانچہ حضرت فضل بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات سے واپس ہوا، آپ آخری جمرے کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، پھر کنکری مارتے وقت اللہ أکبر کہتے اور آخری کنکری مارنے تک تلبیہ بھی جاری رکھا۔
(صحیح ابن خزیمة: 282/4، حدیث: 2887)
٭ جمرہ عقبہ کی رمی کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے، چنانچہ امام ابن منذر کہتے ہیں کہ رمی جمار طلوع آفتاب کے بعد کی جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور طلوع فجر سے پہلے رمی کرنا درست نہیں۔
ایسا کرنے والا سنت کا مخالف ہو گا۔
ہاں، اگر کسی نے ایسے کیا تو پھر اسے دوبارہ رمی کرنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ مجھے کوئی ایسا شخص معلوم نہیں جو اسے ناکافی خیال کرتا ہو۔
(فتح الباري: 668/3)
واضح رہے کہ حضرت اسامہ بن زید ؓ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی، چنانچہ حضرت ام حصین ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید اور حضرت بلال ؓ کو حجۃ الوداع کے موقع پر دیکھا ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ رکھی تھی اور دوسرے نے گرمی سے بچاؤ کے لیے کپڑا تان رکھا تھا حتی کہ آپ جمرہ عقبہ کی رمی سے فارغ ہو گئے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3138(1298)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1687]

Sahih Bukhari Hadith 1687 in Urdu