صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. باب من ساق البدن معه:
باب: اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے۔
حدیث نمبر: 1692
وَعَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عروہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کی خبر دی کہ اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1692]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا۔ نیز لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ ہی کیا تھا۔ انہوں نے بالکل اسی طرح خبر دی جیسا کہ حضرت سالم رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1692 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1692
حدیث حاشیہ:
نووی ؒ نے کہا کہ تمتع سے یہاں قران مراد ہے، ہوا یہ کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صر ف حج کا احرام باندھا تھا پھر عمرہ کو اس میں شریک کرلیا اور قران کو بھی تمتع کہتے ہیں۔
(وحیدی)
اسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خانہ کعبہ کا طواف کرنے میں رمل کا ذکر بھی آیا ہے۔
یعنی اکڑ کر مونڈھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا۔
یہ طواف کے پہلے تین پھیروں میں کیا اور باقی چار میں معمولی چال سے چلے، یہ اس واسطے کیا کہ مکہ کے مشرکوں نے مسلمانوں کی نسبت یہ خیال کیا تھا کہ مدینہ کے بخار سے وہ ناتواں ہو گئے ہیں تو پہلی بار یہ فعل ان کا خیال غلط کرنے کے لیے کیا گیا تھا، پھر ہمیشہ یہی سنت قائم رہی۔
(وحیدی)
حج میں ایسے بہت سے تاریخی یادگاری امو رہیں جو پچھلے بزرگوں کی یادگاریں ہیں اور اسی لیے ان کو ارکان حج سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں، رمل کا عمل بھی ایسا ہی تاریخی عمل ہے۔
نووی ؒ نے کہا کہ تمتع سے یہاں قران مراد ہے، ہوا یہ کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صر ف حج کا احرام باندھا تھا پھر عمرہ کو اس میں شریک کرلیا اور قران کو بھی تمتع کہتے ہیں۔
(وحیدی)
اسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خانہ کعبہ کا طواف کرنے میں رمل کا ذکر بھی آیا ہے۔
یعنی اکڑ کر مونڈھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا۔
یہ طواف کے پہلے تین پھیروں میں کیا اور باقی چار میں معمولی چال سے چلے، یہ اس واسطے کیا کہ مکہ کے مشرکوں نے مسلمانوں کی نسبت یہ خیال کیا تھا کہ مدینہ کے بخار سے وہ ناتواں ہو گئے ہیں تو پہلی بار یہ فعل ان کا خیال غلط کرنے کے لیے کیا گیا تھا، پھر ہمیشہ یہی سنت قائم رہی۔
(وحیدی)
حج میں ایسے بہت سے تاریخی یادگاری امو رہیں جو پچھلے بزرگوں کی یادگاریں ہیں اور اسی لیے ان کو ارکان حج سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں، رمل کا عمل بھی ایسا ہی تاریخی عمل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1692]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1692
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کے متعلق مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے "حِل" (حدود حرم کے باہر)
سے اپنے ساتھ لائے۔
اگر حرم سے خریدے تو حج کرنے کے لیے جب عرفہ جائے تو بہتر ہے کہ اسے ساتھ لے جائے جبکہ کچھ حضرات کا موقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لیے "حِل" سے قربانی ساتھ لائے تھے کہ آپ کا گھر حدود حرم سے باہر تھا، اس لیے حل سے قربانی ساتھ لے کر جانا مسنون عمل نہیں۔
بہرحال میقات اور بعید مقامات سے قربانی ساتھ لے کر جانا مسنون عمل ہے جسے آج اکثر لوگوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔
(فتح الباري: 682/3) (2)
اس مقام پر لفظ تمتع سے مراد حج قران ہے کہ انہوں نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرے کا فائدہ حاصل کر لیا۔
دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا، پھر عمرے کو اس میں شریک کر لیا۔
لغت اور معنی کے اعتبار سے قارن پر متمتع کا اطلاق جائز ہے کیونکہ اس میں ایک میقات، ایک احرام اور ایک جیسے اعمال حج سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
حج تمتع میں عمرے کے بعد احرام کھول کر بیوی سے تمتع کیا جا سکتا ہے اور حج قران میں عمرے کو حج کے ساتھ ایک ہی احرام میں جمع کرنے کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
دوسری احادیث کے پیش نظر یہ تاویل انتہائی ناگزیر ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کے متعلق مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے "حِل" (حدود حرم کے باہر)
سے اپنے ساتھ لائے۔
اگر حرم سے خریدے تو حج کرنے کے لیے جب عرفہ جائے تو بہتر ہے کہ اسے ساتھ لے جائے جبکہ کچھ حضرات کا موقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لیے "حِل" سے قربانی ساتھ لائے تھے کہ آپ کا گھر حدود حرم سے باہر تھا، اس لیے حل سے قربانی ساتھ لے کر جانا مسنون عمل نہیں۔
بہرحال میقات اور بعید مقامات سے قربانی ساتھ لے کر جانا مسنون عمل ہے جسے آج اکثر لوگوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔
(فتح الباري: 682/3) (2)
اس مقام پر لفظ تمتع سے مراد حج قران ہے کہ انہوں نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرے کا فائدہ حاصل کر لیا۔
دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا، پھر عمرے کو اس میں شریک کر لیا۔
لغت اور معنی کے اعتبار سے قارن پر متمتع کا اطلاق جائز ہے کیونکہ اس میں ایک میقات، ایک احرام اور ایک جیسے اعمال حج سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
حج تمتع میں عمرے کے بعد احرام کھول کر بیوی سے تمتع کیا جا سکتا ہے اور حج قران میں عمرے کو حج کے ساتھ ایک ہی احرام میں جمع کرنے کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
دوسری احادیث کے پیش نظر یہ تاویل انتہائی ناگزیر ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1692]
Sahih Bukhari Hadith 1692 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق