صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب النحر قبل الحلق فى الحصر:
باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جس سال آپ عمرے سے روک دیے گئے تھے) پہلے قربانی کی، پھر سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1811 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1811
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ پہلے قربانی کرنا پھر سر منڈانا ہی مسنون ترتیب ہے۔
معلوم ہوا کہ پہلے قربانی کرنا پھر سر منڈانا ہی مسنون ترتیب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1811]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1811
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث دوسرے مقام پر تفصیل سے بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرائط صلح کی تحریر سے فارغ ہوئے تو آپ نے صحابۂ کرام ؓ کو حکم دیا کہ وہ اٹھیں، قربانی کریں اور اپنے بال منڈوائیں۔
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ کسی سے بات نہ کریں، اٹھیں اور قربانی ذبح کریں، چنانچہ آپ باہر نکلے، قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر منڈوایا۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2731) (2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ترتیب صرف احصار کی صورت میں ہے کیونکہ عام حالات میں ترتیب ضروری نہیں۔
(فتح الباري: 14/4) (3)
قرآن کریم میں ہے کہ قربانی کے اپنے ٹھکانے پر پہنچنے تک اپنے سر نہ منڈواؤ۔
(البقرة: 196: 2)
اس آیت کا تقاضا ہے کہ قربانی جب تک اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے حلق نہیں کرنا چاہیے جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی اپنی جگہ پر پہنچنے سے پہلے حلق کر دیا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ محصر کے لیے محل الہدی وہی جگہ ہے جہاں احصار ہوا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احصار کے وقت مقام حدیبیہ ہی میں اپنی قربانی ذبح کی، اسے حرم کے اندر نہیں پہنچایا گیا۔
واللہ أعلم۔
اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ احصار کی صورت میں قربانی کو حرم کعبہ بھیجا جائے، جب وہاں ذبح ہو جائے تو پھر احرام کھولنے کی اجازت ہے لیکن مذکورہ حدیث سے ان کی تردید ہوتی ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث دوسرے مقام پر تفصیل سے بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرائط صلح کی تحریر سے فارغ ہوئے تو آپ نے صحابۂ کرام ؓ کو حکم دیا کہ وہ اٹھیں، قربانی کریں اور اپنے بال منڈوائیں۔
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ کسی سے بات نہ کریں، اٹھیں اور قربانی ذبح کریں، چنانچہ آپ باہر نکلے، قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر منڈوایا۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2731) (2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ترتیب صرف احصار کی صورت میں ہے کیونکہ عام حالات میں ترتیب ضروری نہیں۔
(فتح الباري: 14/4) (3)
قرآن کریم میں ہے کہ قربانی کے اپنے ٹھکانے پر پہنچنے تک اپنے سر نہ منڈواؤ۔
(البقرة: 196: 2)
اس آیت کا تقاضا ہے کہ قربانی جب تک اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے حلق نہیں کرنا چاہیے جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی اپنی جگہ پر پہنچنے سے پہلے حلق کر دیا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ محصر کے لیے محل الہدی وہی جگہ ہے جہاں احصار ہوا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احصار کے وقت مقام حدیبیہ ہی میں اپنی قربانی ذبح کی، اسے حرم کے اندر نہیں پہنچایا گیا۔
واللہ أعلم۔
اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ احصار کی صورت میں قربانی کو حرم کعبہ بھیجا جائے، جب وہاں ذبح ہو جائے تو پھر احرام کھولنے کی اجازت ہے لیکن مذکورہ حدیث سے ان کی تردید ہوتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1811]
Sahih Bukhari Hadith 1811 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي