🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب حج النساء:
باب: عورتوں کا حج کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّتِهِ، قَالَ لِأُمِّ سِنَانٍ الْأَنْصَارِيَّةِ: مَا مَنَعَكِ مِنَ الْحَجِّ؟ قَالَتْ: أَبُو فُلَانٍ تَعْنِي زَوْجَهَا، كَانَ لَهُ نَاضِحَانِ حَجَّ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَالْآخَرُ يَسْقِي أَرْضًا لَنَا، قَالَ: إِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً، أَوْ حَجَّةً مَعِي"، رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں ایک عمرہ حج کے برابر ہے، یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الكريم بن مالك الجزري، أبو سعيد
Newعبد الكريم بن مالك الجزري ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة متقن
👤←👥عبيد الله بن عمرو الأسدي، أبو وهب
Newعبيد الله بن عمرو الأسدي ← عبد الكريم بن مالك الجزري
ثقة
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عبيد الله بن عمرو الأسدي
صحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← ابن جريج المكي
صحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥حبيب بن زائدة المعلم، أبو محمد
Newحبيب بن زائدة المعلم ← عطاء بن أبي رباح القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← حبيب بن زائدة المعلم
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1863 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1863
حدیث حاشیہ:
عبید اللہ عن عبدالکریم کی روایت کو ابن ماجہ نے وصل کیا ہے امام بخاری ؒ کا مطلب ان سندوں کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ راویوں نے اس میں عطاءپر اختلاف کیا ہے، ابن ابی معلی اور یعقوب ابن عطاءنے بھی حبیب معلم اور ابن جریج کی طرح روایت کی ہے معلوم ہوا کہ عبدالکریم کی روایت شاذ ہے جو اعتبار کے قابل نہیں۔
حدیث میں جس عورت کا ذکر ہے وہ ام سنان ؓ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے سے محروم رہ گئی تھیں۔
حج ان پر فرض بھی نہ تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلجوئی کے لیے فرمایا کہ رمضان میں اگر وہ عمرہ کرلیں تو اس محرومی کا کفارہ ہو جائے گا اس سے رمضان میں عمرہ کی فضیلت بھی ثابت ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1863]

Sahih Bukhari Hadith 1863 in Urdu