صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب كراهية النبى صلى الله عليه وسلم أن تعرى المدينة:
باب: مدینہ کا ویران کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار تھا۔
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، وَقَالَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ، فَأَقَامُوا".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کر لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنو سلمہ نے (اپنی اصلی اقامت گاہ میں) رہائش باقی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← حميد بن أبي حميد الطويل | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله محمد بن سلام البيكندي ← مروان بن معاوية الفزاري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
656
| ألا تحتسبون آثاركم |
صحيح البخاري |
1887
| ألا تحتسبون آثاركم فأقاموا |
سنن ابن ماجه |
784
| ألا تحتسبون آثاركم فأقاموا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1887 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1887
حدیث حاشیہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ مدینہ کی آبادی سب طرف سے قائم رہے اور اس میں ترقی ہوتی جائے تاکہ کافروں اور منافقوں پر رعب پڑے، حضرت امام بخاری ؒ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مدینہ کی اقامت ترک کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلمان کی عین سعادت ہے جس کو وہاں اطمینان کے ساتھ سکونت مل جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ مدینہ کی آبادی سب طرف سے قائم رہے اور اس میں ترقی ہوتی جائے تاکہ کافروں اور منافقوں پر رعب پڑے، حضرت امام بخاری ؒ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مدینہ کی اقامت ترک کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلمان کی عین سعادت ہے جس کو وہاں اطمینان کے ساتھ سکونت مل جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1887]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1887
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے لیکن آپ نے مدینہ طیبہ ہی کو اپنا حقیقی ٹھکانا اور وطن بنا لیا۔
اس کی آبادی اور ترقی کے لیے اس قدر کوشاں ہوئے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔
آپ کا یہ اولین مقصد تھا کہ اس کی آبادی ہر طرف سے قائم رہے اور اس میں ترقی ہوتی جائے تاکہ کفارومنافقین پر رعب پڑے۔
(2)
حضرت امام بخاری ؒ کا اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے مقصود یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کی اقامت ترک کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلمان کی عین سعادت ہے جسے وہاں اطمینان کے ساتھ اقامت مل جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلمہ کی نقل مکانی کو اسی لیے ناپسند فرمایا، البتہ دعوت دین اور اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے اگر مدینہ طیبہ کی اقامت چھوڑنی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ متعدد صحابۂ کرام ؓ نے دعوت و تبلیغ کے لیے مدینہ طیبہ کو چھوڑ دیا تھا۔
(3)
مدینے سے باہر رہتے ہوئے بھی اپنے دل میں اس کی محبت رکھنا عین ایمان ہے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے لیکن آپ نے مدینہ طیبہ ہی کو اپنا حقیقی ٹھکانا اور وطن بنا لیا۔
اس کی آبادی اور ترقی کے لیے اس قدر کوشاں ہوئے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔
آپ کا یہ اولین مقصد تھا کہ اس کی آبادی ہر طرف سے قائم رہے اور اس میں ترقی ہوتی جائے تاکہ کفارومنافقین پر رعب پڑے۔
(2)
حضرت امام بخاری ؒ کا اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے مقصود یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کی اقامت ترک کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ یہ اس مسلمان کی عین سعادت ہے جسے وہاں اطمینان کے ساتھ اقامت مل جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلمہ کی نقل مکانی کو اسی لیے ناپسند فرمایا، البتہ دعوت دین اور اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے اگر مدینہ طیبہ کی اقامت چھوڑنی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ متعدد صحابۂ کرام ؓ نے دعوت و تبلیغ کے لیے مدینہ طیبہ کو چھوڑ دیا تھا۔
(3)
مدینے سے باہر رہتے ہوئے بھی اپنے دل میں اس کی محبت رکھنا عین ایمان ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1887]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث784
مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: ”بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟“، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 784]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: ”بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟“، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 784]
اردو حاشہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد نبوی کے قریب رہائش اختیار کرنے سے منع فرمایا تاکہ شہر کی سرحدیں محفوظ رہیں اور دشمن اچانک حملہ نہ کرسکیں۔
(2)
بنو سلمہ کا مقصد بھی نیک تھا لیکن ان کے رہائش تبدیل نہ کرنے میں مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی مفاد پر اجتماعی فائدے کو فوقیت حاصل ہے بشرطیکہ اس سے کوئی بڑی خرابی لازم نہ آتی ہو،
(3)
مسجد سے دور رہنے والوں کو بھی نماز باجماعت میں شریک ہونا لازم ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد نبوی کے قریب رہائش اختیار کرنے سے منع فرمایا تاکہ شہر کی سرحدیں محفوظ رہیں اور دشمن اچانک حملہ نہ کرسکیں۔
(2)
بنو سلمہ کا مقصد بھی نیک تھا لیکن ان کے رہائش تبدیل نہ کرنے میں مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی مفاد پر اجتماعی فائدے کو فوقیت حاصل ہے بشرطیکہ اس سے کوئی بڑی خرابی لازم نہ آتی ہو،
(3)
مسجد سے دور رہنے والوں کو بھی نماز باجماعت میں شریک ہونا لازم ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 784]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 656
656. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے کہ بنوسلمہ قبیلے نے نقل مکانی کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا کہ وہ مدینے کو ویران کر دیں پھر آپ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے قدموں کے بدلے ثواب کے طلب گار کیوں نہیں ہو؟“ امام مجاہد نے آثارهم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے معنی زمین پر اپنے قدموں سے چلنے کے نشانات ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:656]
حدیث حاشیہ:
مدینہ کے قرب وجوار میں جومسلمان رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ وہ مسجد نبوی کے قریب شہر میں سکونت اختیار کرلیں۔
لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ تم لوگ جتنی دور سے چل چل کر آؤ گے اور یہاں نماز باجماعت ادا کرو گے ہر ہرقدم نیکیوں میں شمار کیا جائے گا۔
سورۃ یٰسین کی آیت کریمہ:
﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ میں اللہ نے اسی عام اصول کو بیان فرمایا ہے کہ انسان کا ہر وہ قدم بھی لکھا جاتا ہے جو وہ اٹھاتا ہے۔
اگر قدم نیکی کے لیے ہے تو وہ نیکیوں میں لکھا جائے گا اور اگر برائی کے لیے کوئی قدم اٹھا رہا ہے تو وہ برائیوں میں لکھا جائے گا۔
مجاہد کے قول کو عبد بن حمید نے موصولاً روایت کیا ہے۔
مدینہ کے قرب وجوار میں جومسلمان رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ وہ مسجد نبوی کے قریب شہر میں سکونت اختیار کرلیں۔
لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ تم لوگ جتنی دور سے چل چل کر آؤ گے اور یہاں نماز باجماعت ادا کرو گے ہر ہرقدم نیکیوں میں شمار کیا جائے گا۔
سورۃ یٰسین کی آیت کریمہ:
﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ میں اللہ نے اسی عام اصول کو بیان فرمایا ہے کہ انسان کا ہر وہ قدم بھی لکھا جاتا ہے جو وہ اٹھاتا ہے۔
اگر قدم نیکی کے لیے ہے تو وہ نیکیوں میں لکھا جائے گا اور اگر برائی کے لیے کوئی قدم اٹھا رہا ہے تو وہ برائیوں میں لکھا جائے گا۔
مجاہد کے قول کو عبد بن حمید نے موصولاً روایت کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 656]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:656
656. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے کہ بنوسلمہ قبیلے نے نقل مکانی کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا کہ وہ مدینے کو ویران کر دیں پھر آپ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے قدموں کے بدلے ثواب کے طلب گار کیوں نہیں ہو؟“ امام مجاہد نے آثارهم کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے معنی زمین پر اپنے قدموں سے چلنے کے نشانات ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:656]
حدیث حاشیہ:
(1)
قبیلۂ بنو سلمہ کے مکانات سلع پہاڑ کے پاس مسجد نبوی سے تقریباً ایک میل کی مسافت پر تھے جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ ہمارے گھر مسجد نبوی سے دور تھے۔
ہم نے ارادہ کیا کہ انھیں فروخت کرکے مسجد کے قریب اپنے گھر تعمیر کریں تاکہ نماز کے لیے آنے جانے میں سہولت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس اقدام سے روک دیا اور فرمایا کہ تمھارے لیے ہر قدم کے عوض ایک درجہ بلند ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے منع فرمایا کہ ایسا کرنے سے مدینہ منورہ کی سرحدیں غیر محفوظ ہونے کا اندیشہ تھا۔
اور قدموں کے بدلے نیکیاں ملنے کا ایک اضافی فائدہ تھا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آگاہ فرما دیا، چنانچہ انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور طے کیا کہ اس جگہ کو چھوڑ کر مسجد کے قریب آباد نہیں ہوں گے۔
(فتح الباري: 183/2)
(2)
امام مجاہد کے اثر کو محدث عبد بن حمید نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے یہ اثر پیش کر کے اشارہ فرمایا ہے کہ بنو سلمہ کا مذکورہ واقعہ ہی ان آیات کا شان نزول ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے صراحت کی ہے۔
(سنن ابن ماجة، المساجد والجماعات، حدیث: 785) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جتنی دور سے چل کر نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے آئے گا، اسی قدر زیادہ اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک انصاری دور سے چل کر مسجد نبوی میں شریک جماعت ہوتا تھا، کسی نے اسے مشورہ دیا کہ تم کوئی سواری خرید لو تاکہ آنے جانے میں سہولت رہے۔
اس نے جواب دیا کہ مجھے پیدل چل کر آنے سے قدموں کے بدلے اللہ کے ہاں ثواب ملنے کی امید ہے۔
جب اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا:
”تیری نیت کے مطابق تجھے ضرور ثواب ملے گا۔
“ (سنن ابن ماجة، المساجد والجماعات، حدیث: 783)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مسجد کے قریب رہنے والا نمازی اگر چھوٹے چھوٹے قدم بھر کر مسجد آتا ہے تو اجرو ثواب کے اعتبار سے وہ دور سے چل کر آنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا۔
(فتح الباري: 183/2)
(1)
قبیلۂ بنو سلمہ کے مکانات سلع پہاڑ کے پاس مسجد نبوی سے تقریباً ایک میل کی مسافت پر تھے جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ ہمارے گھر مسجد نبوی سے دور تھے۔
ہم نے ارادہ کیا کہ انھیں فروخت کرکے مسجد کے قریب اپنے گھر تعمیر کریں تاکہ نماز کے لیے آنے جانے میں سہولت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس اقدام سے روک دیا اور فرمایا کہ تمھارے لیے ہر قدم کے عوض ایک درجہ بلند ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے منع فرمایا کہ ایسا کرنے سے مدینہ منورہ کی سرحدیں غیر محفوظ ہونے کا اندیشہ تھا۔
اور قدموں کے بدلے نیکیاں ملنے کا ایک اضافی فائدہ تھا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آگاہ فرما دیا، چنانچہ انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور طے کیا کہ اس جگہ کو چھوڑ کر مسجد کے قریب آباد نہیں ہوں گے۔
(فتح الباري: 183/2)
(2)
امام مجاہد کے اثر کو محدث عبد بن حمید نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے یہ اثر پیش کر کے اشارہ فرمایا ہے کہ بنو سلمہ کا مذکورہ واقعہ ہی ان آیات کا شان نزول ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے صراحت کی ہے۔
(سنن ابن ماجة، المساجد والجماعات، حدیث: 785) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جتنی دور سے چل کر نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے آئے گا، اسی قدر زیادہ اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک انصاری دور سے چل کر مسجد نبوی میں شریک جماعت ہوتا تھا، کسی نے اسے مشورہ دیا کہ تم کوئی سواری خرید لو تاکہ آنے جانے میں سہولت رہے۔
اس نے جواب دیا کہ مجھے پیدل چل کر آنے سے قدموں کے بدلے اللہ کے ہاں ثواب ملنے کی امید ہے۔
جب اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا:
”تیری نیت کے مطابق تجھے ضرور ثواب ملے گا۔
“ (سنن ابن ماجة، المساجد والجماعات، حدیث: 783)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مسجد کے قریب رہنے والا نمازی اگر چھوٹے چھوٹے قدم بھر کر مسجد آتا ہے تو اجرو ثواب کے اعتبار سے وہ دور سے چل کر آنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا۔
(فتح الباري: 183/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 656]
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري