🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ:
باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1891
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ سورة البقرة آية 183.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم گناہوں سے بچو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1891]

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4627

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1891
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ؟ فَقَالَ: شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ؟ فَقَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نے، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتا دیں۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1891]
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بایں حالت حاضر ہوا کہ اس کے بال پراگندہ تھے۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آگاہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں مگر تم اپنی خوشی سے نفل ادا کرو تو الگ بات ہے۔“ اس نے عرض کیا: بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، ہاں یہ اور بات ہے کہ تم خوشی سے نفلی روزے رکھو۔“ اس نے پھر عرض کیا کہ آپ بتائیں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر زکاۃ کس طرح فرض کی ہے؟ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام سے آگاہ فرمایا۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی ہے! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے میں اس پر کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا اور نہ اس سے کسی کمی ہی کا مرتکب ہوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچ کہتا ہے تو اپنی مراد پا لے گا یا جنت میں جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4627

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمدصحابي
👤←👥مالك بن أبي عامر الأصبحي، أبو محمد، أبو أنس
Newمالك بن أبي عامر الأصبحي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
ثقة
👤←👥نافع بن مالك التيمي، أبو سهيل
Newنافع بن مالك التيمي ← مالك بن أبي عامر الأصبحي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← نافع بن مالك التيمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1891 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1891
حدیث حاشیہ:
اس دیہاتی کا نام حماد بن ثعلبہؓ تھا، اس حدیث سے رمضان کے روزوں کی فرضیت ثابت ہوئی، حضرت امام بخاری ؒ نے اس مقصد کے تحت یہاں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے۔
اس دیہاتی نے نفلوں کا انکار نہیں کیا، کمی یا بیشی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہ مستحق بشارت نبوی ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1891]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1891
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کو ثابت کیا ہے۔
اس اعرابی کا نام ضمام بن ثعلبہ ؓ تھا۔
اس نے نفلی روزوں کا انکار نہیں کیا، صرف ان فرائض میں کمی بیشی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہ بشارت کا حق دار ٹھہرا۔
(2)
اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں۔
ممکن ہے اس وقت حج فرض نہ ہوا ہو، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر نہیں فرمایا۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس موقع پر حج اور اسلام کے دیگر احکام کا ذکر فرمایا لیکن راوی نے اختصار کر دیا ہو اور لگتا بھی ایسا ہی ہے کیونکہ روایت میں نماز، روزے اور زکاۃ کے ذکر کے بعد راوئ حدیث حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے شرائع اسلام کا ذکر کیا ہے، اس میں حج اور اسلام کے دیگر اہم احکام داخل ہیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرائض کا پابند نجات پا جائے گا اگرچہ نوافل ادا نہ کرے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1891]

Sahih Bukhari Hadith 1891 in Urdu