🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب قول الله تعالى: {وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر ثم أتموا الصيام إلى الليل} :
باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ سحری کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ کھل جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (یعنی صبح کاذب) سے پھر پورے کرو اپنے روزے سورج چھپنے تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ. ح حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" أُنْزِلَتْ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل بن سعد نے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے لیکن «من الفجر» (صبح کی) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى
Newسهل بن سعد الساعدي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
صحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1917
أنزلت وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود ولم ينزل من الفجر فكان رجال إذا أرادوا الصوم ربط أحدهم في رجله الخيط الأبيض والخيط الأسود ولم يزل يأكل حتى يتبين له رؤيتهما فأنزل الله بعد من الفجر فعلموا أنه إنما يعني الليل والنهار
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1917 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1917
حدیث حاشیہ:
ابتداءمیں صحابہ ؓ میں سے بعض لوگوں نے طلوع فجر کا مطلب نہیں سمجھا اس لیے وہ سفید اور سیاہ دھاگے سے فجر معلوم کرنے لگے مگر جب من الفجر کا لفظ نازل ہوا تو ان کو حقیقت کا علم ہوا۔
سیاہ دھاری سے رات کی اندھیری اور سفید دھاری سے صبح کا اجالا مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1917]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1917
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عدی بن حاتم ؓ کے واقعہ سے قبل اس آیت کا نزول ہو چکا تھا، لیکن انہیں تفصیل کا علم نہ تھا، صرف انہوں نے آیت سنی اور اپنی سمجھ کے مطابق عمل کیا کیونکہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آب بیتی سنائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے ابن حاتم! کیا میں نے تجھے من الفجر کے الفاظ نہیں سنائے تھے؟ حضرت عدی ؓ نے عرض کی:
اللہ کے رسول! میں اس تفصیل کو بھول گیا تھا، اس لیے جو ہوا سو ہوا۔
(2)
علامہ نووی ؒ نے فرمایا:
پاؤں سے سفید اور سیاہ دھاگا باندھنے کا فعل ایسے لوگوں سے سرزد ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتے تھے اور وہ قرآنی اسلوب سے ناواقف تھے۔
ممکن ہے کہ ان کی لغت میں سیاہ اور سفید دھاگے کا استعمال رات اور دن کے لیے معروف نہ ہو۔
(فتح الباري: 172/4)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1917]

Sahih Bukhari Hadith 1917 in Urdu