صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب الحجامة والقيء للصائم:
باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔
حدیث نمبر: Q1938
وَقَالَ لِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا قَاءَ فَلَا يُفْطِرُ إِنَّمَا يُخْرِجُ وَلَا يُولِجُ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ يُفْطِرُ وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعِكْرِمَةُ: الصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ، وَاحْتَجَمَ أَبُو مُوسَى لَيْلًا، وَيُذْكَرُ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، احْتَجَمُوا صِيَامًا، وَقَالَ بُكَيْرٌ: عَنْ أُمِّ عَلْقَمَةَ: كُنَّا نَحْتَجِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَا تَنْهَى، وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مَرْفُوعًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ، وَقَالَ لِي عَيَّاشٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، مِثْلَهُ، قِيلَ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ.
اور مجھ سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمر بن حکم بن ثوبان نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنا کہ جب کوئی قے کرے تو روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سے تو چیز باہر آتی ہے اندر نہیں جاتی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے اور ابن عباس اور عکرمہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ روزہ ٹوٹتا ہے ان چیزوں سے جو اندر جاتی ہیں ان سے نہیں جو باہر آتی ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی روزہ کی حالت میں پچھنا لگواتے لیکن بعد میں دن کو اسے ترک کر دیا تھا اور رات میں پچھنا لگوانے لگے تھے اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی پچھنا لگوایا تھا اور سعد بن ابی وقاص اور زید بن ارقم اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا، بکیر نے ام علقمہ سے کہا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (روزہ کی حالت میں) پچھنا لگوایا کرتے تھے اور آپ ہمیں روکتی نہیں تھیں، اور حسن بصری رحمہ اللہ کئی صحابہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے (دونوں کا) روزہ ٹوٹ گیا اور مجھ سے عیاش بن ولید نے بیان کیا اور ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا اور ان سے حسن بصری نے ایسی ہی روایت کی، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں پھر کہنے لگے اللہ بہتر جانتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1938]
حدیث نمبر: 1938
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، وہ ایوب سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام میں اور روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5701
| احتجم النبي في رأسه وهو محرم من وجع كان به بماء يقال له لحي جمل |
صحيح البخاري |
2278
| احتجم النبي أعطى الحجام أجره |
صحيح البخاري |
5694
| احتجم النبي وهو صائم |
صحيح البخاري |
5695
| احتجم النبي وهو محرم |
صحيح البخاري |
2279
| احتجم النبي أعطى الحجام أجره |
صحيح البخاري |
5691
| احتجم أعطى الحجام أجره استعط |
صحيح البخاري |
2103
| احتجم النبي أعطى الذي حجمه |
صحيح البخاري |
1938
| احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم |
صحيح البخاري |
1835
| احتجم رسول الله وهو محرم |
صحيح البخاري |
1939
| احتجم النبي وهو صائم |
صحيح مسلم |
2885
| احتجم وهو محرم |
صحيح مسلم |
5749
| احتجم أعطى الحجام أجره استعط |
صحيح مسلم |
4041
| احتجم أعطى الحجام أجره استعط |
صحيح مسلم |
4042
| حجم النبي عبد لبني بياضة أعطاه النبي أجره كلم سيده فخفف عنه من ضريبته |
جامع الترمذي |
839
| احتجم وهو محرم |
جامع الترمذي |
777
| احتجم فيما بين مكة والمدينة وهو محرم صائم |
جامع الترمذي |
776
| احتجم وهو صائم |
جامع الترمذي |
775
| احتجم رسول الله وهو محرم صائم |
سنن أبي داود |
3423
| احتجم رسول الله أعطى الحجام أجره |
سنن أبي داود |
2372
| احتجم وهو صائم |
سنن أبي داود |
1835
| احتجم وهو محرم |
سنن أبي داود |
2373
| احتجم وهو صائم محرم |
سنن أبي داود |
1836
| احتجم وهو محرم في رأسه من داء كان به |
سنن أبي داود |
3867
| استعط |
سنن النسائى الصغرى |
2849
| احتجم وهو محرم |
سنن النسائى الصغرى |
2848
| احتجم وهو محرم |
سنن النسائى الصغرى |
2850
| احتجم النبي وهو محرم |
سنن ابن ماجه |
3081
| احتجم وهو صائم محرم |
سنن ابن ماجه |
1682
| احتجم رسول الله وهو صائم محرم |
سنن ابن ماجه |
2162
| احتجم أعطاه أجره |
بلوغ المرام |
540
| ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم |
بلوغ المرام |
602
| احتجم وهو محرم |
بلوغ المرام |
770
| احتجم رسول الله واعطى الذي حجمه اجره ولو كان حراما لم يعطه |
مسندالحميدي |
508
| احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم |
مسندالحميدي |
509
| احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم |
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي