Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب من مات وعليه صوم:
باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1952
وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنْ صَامَ عَنْهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا يَوْمًا وَاحِدًا جَازَ.
‏‏‏‏ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر اس کی طرف سے (رمضان کے تیس روزوں کے بدلے) تیس آدمی ایک دن روزہ رکھ لیں تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1952]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ"، تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ.
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جعفر نے کہا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصريثقة
👤←👥يحيى بن أيوب الغافقي، أبو العباس
Newيحيى بن أيوب الغافقي ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← يحيى بن أيوب الغافقي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن وهب القرشي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن جعفرالأسدي
Newمحمد بن جعفرالأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصري
Newعبيد الله بن أبي جعفر المصري ← محمد بن جعفرالأسدي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
ثقة فقيه حافظ
👤←👥موسى بن أعين الجزري، أبو سعيد
Newموسى بن أعين الجزري ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن موسى الجزري، أبو يحيى
Newمحمد بن موسى الجزري ← موسى بن أعين الجزري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن موسى الجزري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1952
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
صحيح مسلم
2692
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
سنن أبي داود
2400
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
سنن أبي داود
3311
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
بلوغ المرام
551
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1952 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1952
حدیث حاشیہ:
اہل حدیث کا مذہب باب کی حدیث پر ہے کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے اور شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے۔
امام شافعی سے بیہقی نے بہ سند صحیح روایت کیا کہ جب کوئی صحیح حدیث میرے قول کے خلاف مل جائے تو اس پر عمل کرو اور میری تقلید نہ کرو، امام مالک اور ابوحنیفہ ؒ نے اس حدیث صحیح کے برخلاف یہ اختیار کیا کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھ سکتا۔
(وحیدی)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی:
مرنے والے کی طرف سے روزہ رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں دو بھید ہیں ایک میت کے اعتبار سے کیوں کہ بہت سے نفوس جو اپنے ابدان سے مفارقت کرتے ہیں ان کو اسی بات کا ادراک رہتا ہے کہ عبادت میں سے کوئی عبادت جو ان پر فرض تھی اور اس کے ترک کرنے سے ان سے مواخذہ کیا جائے گا اس سے فوت ہو گئی ہے اس لیے وہ نفوس رنج و الم کی حالت میں رہتے ہیں اور اس سبب سے ان پر وحشت کا دروازہ کھل جاتا ہے ایسے وقت میں ان پر بڑی شفقت یہ ہے کہ لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ اس میت کا قریبی ہے اس کا سا عمل کرے اور اس بات کا قصد کرے کہ میں یہ عمل اس کی طرف سے کرتا ہوں اس شخص کی قرابتی کو مفید ثابت ہوتا ہے یا وہ شخص کوئی اور دوسرا کام مثل اسی کام کے کرتا ہے اور ایسا ہی اگر ایک شخص نے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر وہ بغیر صدقہ کئے مر گیا تو اس کے وارث کو اس کی طرف سے صدقہ کرنا چاہئے۔
(حجة اللہ البالغة)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1952]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1952
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں عليه صيام سے مراد نفل روزے نہیں بلکہ ایسے روزے ہیں جو اس پر فرض ہوں، مثلا:
٭ رمضان کے روزے۔
٭ نذر کے روزے۔
٭ کفارے کے روزے۔
اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے فرض روزے ہوں تو اس کے وارث کو ان روزوں کا اہتمام کرنا ہو گا۔
بعض روایات میں یہ اضافہ ہے:
وارث اگر چاہے تو روزے رکھے۔
لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
(التلخیص الحبیر: 457/6)
امام بیہقی "خلافیات" میں لکھتے ہیں:
اس مسئلے میں محدثین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
(فتح الباری: 4/246) (2)
بعض حضرات کا موقف ہے کہ وارث، میت کی طرف سے روزے رکھنے کے بجائے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔
ان کی دلیل حسب ذیل روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔
(سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1757)
لیکن یہ روایت ضعیف ہونے کی بنا پر قابل حجت نہیں۔
(ضعیف سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 389)
بعض روایات میں ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے روزہ نہ رکھے۔
(الموطأ للإمام مالك، الصیام: 279/1، حدیث: 688)
اس سے مراد عام نفل روزے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1952]