صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب ما يذكر من صوم النبى صلى الله عليه وسلم وإفطاره:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے (نماز پڑھتے) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد سليمان بن حيان الجعفري ← حميد بن أبي حميد الطويل | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله محمد بن سلام البيكندي ← سليمان بن حيان الجعفري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3561
| ما مسست حريرا ولا ديباجا ألين من كف النبي ولا شممت ريحا قط أو عرفا قط أطيب من ريح أو عرف النبي |
صحيح البخاري |
1973
| ما كنت أحب أن أراه من الشهر صائما إلا رأيته ولا مفطرا إلا رأيته ولا من الليل قائما إلا رأيته ولا نائما إلا رأيته ولا مسست خزة ولا حريرة ألين من كف رسول الله ولا شممت مسكة ولا عبيرة أطيب رائحة من رائحة رسول الله |
صحيح مسلم |
6053
| ما شممت عنبرا قط ولا مسكا ولا شيئا أطيب من ريح رسول الله ولا مسست شيئا قط ديباجا ولا حريرا ألين مسا من رسول الله |
جامع الترمذي |
2015
| أحسن الناس خلقا ولا مسست خزا قط ولا حريرا ولا شيئا كان ألين من كف رسول الله ولا شممت مسكا قط ولا عطرا كان أطيب من عرق رسول الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1973 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1973
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اول رات میں عبادت کرتے، کبھی بیچ شب میں، کبھی آخر رات میں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آرام فرمانا بھی مختلف وقتوں میں ہوتا رہتا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نفل روزہ بھی تھا۔
شروع اور بیچ اور آخر مہینے میں ہر دنوں میں رکھتے۔
تو ہر شخص جو آپ کو روزہ دار یا رات کو عبادت کرتے یا سوتے دیکھنا چاہتا بلا دقت دیکھ لیتا۔
یہ سب کچھ امت کی تعلیم کے لیے تھا۔
تاکہ مسلمان ہر حال میں اپنے اللہ پاک کو یاد رکھیں۔
اور حقو ق اللہ اور حقوق العباد ہردو کی ادائیگی کو اپنے لیے لازم قرار دے لیں۔
مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اول رات میں عبادت کرتے، کبھی بیچ شب میں، کبھی آخر رات میں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آرام فرمانا بھی مختلف وقتوں میں ہوتا رہتا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نفل روزہ بھی تھا۔
شروع اور بیچ اور آخر مہینے میں ہر دنوں میں رکھتے۔
تو ہر شخص جو آپ کو روزہ دار یا رات کو عبادت کرتے یا سوتے دیکھنا چاہتا بلا دقت دیکھ لیتا۔
یہ سب کچھ امت کی تعلیم کے لیے تھا۔
تاکہ مسلمان ہر حال میں اپنے اللہ پاک کو یاد رکھیں۔
اور حقو ق اللہ اور حقوق العباد ہردو کی ادائیگی کو اپنے لیے لازم قرار دے لیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1973]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1973
حدیث حاشیہ:
(1)
قبل ازیں امام بخاری ؒ نے شعبان کے روزوں کو مطلق بیان کیا اور اس عنوان میں روزہ اور حالت افطار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا تاکہ اس سلسلے میں آپ کا اسوۂ حسنہ بیان کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے صفات میں اکمل تھے۔
آپ کبھی رات کے اول حصے میں، کبھی درمیان میں اور کبھی رات کے آخری حصے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
آپ کے روزہ رکھنے کا بھی یہی عالم تھا، یعنی اگر کوئی آپ کو رات کے کسی حصے میں نماز پڑھتے دیکھنا چاہتا یا دن میں روزے کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو وہ حسب خواہش آپ کو صائم یا قائم دیکھ لیتا تھا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پے در پے روزے رکھتے یا ساری ساری رات نماز پڑھتے رہتے تھے۔
اگرچہ آپ کو یہ قدرت حاصل تھی لیکن آپ سال بھر نہ تو روزے رکھتے اور نہ ساری ساری رات نماز ہی پڑھتے تھے تاکہ امت کو آپ کی اقتدا کرنے میں تکلیف نہ ہو۔
(2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات نماز نہیں پڑھتے تھے، حالانکہ قبل ازیں سیدہ عائشہ ؓ سے مروی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جب کوئی کام شروع کرتے یا نماز پڑھنا شروع کرتے تو اس پر دوام کرتے تھے۔
اس سے مراد وہ عبارت ہے جو بطور وظیفہ شروع کرتے، اس پر ہمیشگی کرتے۔
اس سے مطلق نوافل مراد نہیں۔
(فتح الباري: 276/4)
واللہ أعلم۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کرنے میں میانہ روی کو اختیار فرمایا، آپ روزہ رکھتے اور افطار بھی کرتے۔
نماز پڑھتے، آرام بھی فرما لیتے تاکہ عبادات میں لوگ آپ کی اقتدا کر سکیں۔
(1)
قبل ازیں امام بخاری ؒ نے شعبان کے روزوں کو مطلق بیان کیا اور اس عنوان میں روزہ اور حالت افطار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا تاکہ اس سلسلے میں آپ کا اسوۂ حسنہ بیان کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے صفات میں اکمل تھے۔
آپ کبھی رات کے اول حصے میں، کبھی درمیان میں اور کبھی رات کے آخری حصے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
آپ کے روزہ رکھنے کا بھی یہی عالم تھا، یعنی اگر کوئی آپ کو رات کے کسی حصے میں نماز پڑھتے دیکھنا چاہتا یا دن میں روزے کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو وہ حسب خواہش آپ کو صائم یا قائم دیکھ لیتا تھا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پے در پے روزے رکھتے یا ساری ساری رات نماز پڑھتے رہتے تھے۔
اگرچہ آپ کو یہ قدرت حاصل تھی لیکن آپ سال بھر نہ تو روزے رکھتے اور نہ ساری ساری رات نماز ہی پڑھتے تھے تاکہ امت کو آپ کی اقتدا کرنے میں تکلیف نہ ہو۔
(2)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات نماز نہیں پڑھتے تھے، حالانکہ قبل ازیں سیدہ عائشہ ؓ سے مروی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جب کوئی کام شروع کرتے یا نماز پڑھنا شروع کرتے تو اس پر دوام کرتے تھے۔
اس سے مراد وہ عبارت ہے جو بطور وظیفہ شروع کرتے، اس پر ہمیشگی کرتے۔
اس سے مطلق نوافل مراد نہیں۔
(فتح الباري: 276/4)
واللہ أعلم۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کرنے میں میانہ روی کو اختیار فرمایا، آپ روزہ رکھتے اور افطار بھی کرتے۔
نماز پڑھتے، آرام بھی فرما لیتے تاکہ عبادات میں لوگ آپ کی اقتدا کر سکیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1973]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3561
3561. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے کسی موٹے یاباریک ریشم کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم نہیں پایا اور نہ میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو یا مہک سے اچھی سونگھی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3561]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم اورگداز ہتھیلیوں کا ذکر ہے جبکہ دیگر روایات میں آپ کے ہاتھ کی صفت(ضَخم)
اور(شَشن)
کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے جس کا معنی سخت کے ہیں۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث5907،5910)
یہ روایات مذکورہ روایت کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مضبوط اور قوی تر تھے مگرجلد نرم تھی۔
نرم اور قوی ہونا دونوں جمع ہوسکتے ہیں،چنانچہ طبرانی میں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سفر میں اپنے پیچھے بٹھایا تو میں نے آپ کی جلد سے نرم کوئی چیز نہیں پائی۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 59/20)
2۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں گداز اور پرگوشت تھیں جیسا کہ مذکورہ احادیث میں صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم اورگداز ہتھیلیوں کا ذکر ہے جبکہ دیگر روایات میں آپ کے ہاتھ کی صفت(ضَخم)
اور(شَشن)
کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے جس کا معنی سخت کے ہیں۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث5907،5910)
یہ روایات مذکورہ روایت کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مضبوط اور قوی تر تھے مگرجلد نرم تھی۔
نرم اور قوی ہونا دونوں جمع ہوسکتے ہیں،چنانچہ طبرانی میں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سفر میں اپنے پیچھے بٹھایا تو میں نے آپ کی جلد سے نرم کوئی چیز نہیں پائی۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 59/20)
2۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں گداز اور پرگوشت تھیں جیسا کہ مذکورہ احادیث میں صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3561]
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري