🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب صوم يوم عرفة:
باب: عرفہ کے دن روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلَابٍ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، (یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی)۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن سليمان الجعفي، أبو سعيد
Newيحيى بن سليمان الجعفي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1989
الناس شكوا في صيام النبي يوم عرفة فأرسلت إليه بحلاب وهو واقف في الموقف فشرب منه والناس ينظرون
صحيح مسلم
2636
الناس شكوا في صيام رسول الله يوم عرفة فأرسلت إليه ميمونة بحلاب اللبن وهو واقف في الموقف فشرب منه والناس ينظرون إليه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1989 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1989
حدیث حاشیہ:
عبداللہ بن وہب نے خود یہ حدیث یحییٰ کو سنائی یا عبداللہ بن وہب کے شاگردوں نے ان کو سنائی، دونوں طرح حدیث کی روایت صحیح ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس باب میں ان حدیثوں کو ذکر نہیں کیا جن میں عرفہ کے روزہ کی ترغیب ہے، جب کہ وہ حدیث بیان کی جس سے عرفہ میں آپ کا افطار کرنا ثابت ہے۔
کیوں کہ وہ حدیثیں ان کی شرط کے موافق صحیح نہ ہوں گی۔
حالانکہ امام مسلم نے ابوقتادہ سے نکالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عرفہ کا روزہ ایک برس آگے اور ایک برس پیچھے کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے اور بعض نے کہا عرفہ کا روزہ حاجی کو نہ رکھنا چاہئے۔
اس خیال سے کہ کہیں ضعف نہ ہوجائے اور حج کے اعمال بجالانے میں خلل واقع ہو۔
اور اس طرح باب کی احادیث اور ان احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1989]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1989
حدیث حاشیہ:
(1)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاج کرام کو میدان عرفات میں نویں ذوالحجہ کا روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(مسندأحمد: 304/2)
اس دن روزہ نہ رکھنے کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے انسان کمزور ہو جائے گا۔
ممکن ہے کہ وہاں دعا، ذکر اور دیگر افعال خیر کے انجام دینے سے عاجز ہو جائے۔
واللہ أعلم۔
(2)
حجاج کرام کے علاوہ دیگر حضرات کے لیے اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے، چنانچہ حضرت ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہ مٹا دیتا ہے:
ایک گزشتہ سال اور ایک آئندہ سال کے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2746(1162) (3)
بعض معاصرین کا خیال ہے کہ غیر حجاج کے لیے یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے، خواہ ہمارے ہاں ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہی کیوں نہ ہو، یہ خیال بوجوہ محل نظر ہے۔
٭ ہر انسان اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ یوم عرفہ کی تعیین کر سکے، اس لیے اسے اپنے حساب سے نویں ذوالحجہ کا روزہ رکھنے کا پابند کیا جائے۔
٭ بعض مقامات پر تاریخوں کا اختلاف ہوتا ہے، یعنی ہمارے پاک و ہند میں یوم عرفہ کی آٹھ تاریخ ہوتی ہے جبکہ بعض مغربی ممالک ایسے ہیں جہاں یوم عرفہ کو دس تاریخ ہو سکتی ہے، اس لیے وہاں عید ہو گی اور عید کا روزہ رکھنا منع ہے، اس لیے روزے دار کو سعودی عرب کے یوم عرفہ سے وابستہ کرنا محل نظر ہے۔
ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ ہم اپنے حساب سے چاند کا اعتبار کریں، جس دن ذوالحجہ کی نو تاریخ ہو، اس دن کا روزہ رکھیں، خواہ سعودی عرب میں عید ہی کیوں نہ ہو۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1989]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2636
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں شک کیا تو میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا برتن ارسال کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرنے کی جگہ (عرفات) میں ٹھہرے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2636]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عرفہ کے دن چونکہ حاجی منی سے عرفات جاتے ہیں وہاں ظہر و عصر کی نماز جمع کرتے ہیں اور امام خطبہ دیتا ہے پھر شام تک میدان عرفات میں دعا اور استغفار کے لیے وقوف کرنا ہوتا ہے اور آفتاب کے غروب ہوتے ہی مزدلفہ کی طرف واپس آنا ہوتا ہے ان کاموں کی سر انجام دہی کی بنا پر حاجی کے لیے روزہ مشکل اور مشقت کا باعث بنتا ہے اس لیے حاجیوں کے لیے عرفہ کے دن روزہ رکھنا پسندیدہ نہیں ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی تعلیم کی خاطر عرفہ کے دن جبکہ آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر تھے اور وقوف فرما رہے تھے سب کے سامنے دودھ نوش فرمایا تاکہ سب دیکھ لیں کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ نہیں ہے اور دودھ دونوں بہنوں اُم الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے باہمی مشورہ سے بھیجا گیا تھا اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ لے کر گئے تھے اس لیے اس کی نسبت دونوں کی طرف ہو سکتی ہے عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مولیٰ تھے لیکن ہر وقت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہتے تھے اور ان کے شاگرد اور قابل اعتماد تھے اس لیے ان کو مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کہہ دیا جاتا تھا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام امالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور علماء کے نزدیک حاجیوں کے لیے عرفہ کا روزہ نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2636]

Sahih Bukhari Hadith 1989 in Urdu