🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب الصوم يوم النحر:
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يُنْهَى عَنْ صِيَامَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ: الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے عطاء بن میناء سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن ميناء المدني، أبو معاذ
Newعطاء بن ميناء المدني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن ميناء المدني
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1993
عن صيامين وبيعتين الفطر والنحر والملامسة والمنابذة
صحيفة همام بن منبه
0
عن اللمس والإلقاء والنجش
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1993 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1993
حدیث حاشیہ:
یعنی بائع مشتری کا یا مشتری بائع کا کپڑا یابدن چھوئے تو بیع لازم ہو جائے، اس شرط پر بیع کرنا، یا بائع یا مشتری کوئی چیز دوسرے کی طرف پھینک مارے تو بیع لازم ہوجائے یہ بیع منابذہ ہے جو منع ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1993]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1993
حدیث حاشیہ:
(1)
قربانی کے دن چونکہ قربانی ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا ہے، اس لیے اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔
(2)
بیع ملامسہ یہ ہے کہ خریدار کسی چیز کو محض ہاتھ لگانے سے بیع پختہ کرے، اسے اچھی طرح الٹ پلٹ کر کے نہ دیکھے۔
اور بیع منابذہ یہ ہے کہ خریدار کی طرف کوئی چیز پھینکنے ہی سے بیع پکی ہو جائے، اسے اچھی طرح دیکھا یا کھولا نہ جائے۔
دور جاہلیت میں اس قسم کی خریدوفروخت معروف تھی جس سے دھوکا اور نقصان ہوتا تھا، اس لیے اس سے منع کر دیا گیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1993]