علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فضل من قام رمضان:
باب: رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2010
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ:إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ".
اور ابن شہاب سے (امام مالک رحمہ اللہ) کی روایت ہے، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب صلاة التراويح/حدیث: 2010]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن عبد القاري، أبو محمد عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي صغير | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الرحمن بن عبد القاري | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2010 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح بخاری 2010
ثابت شدہ عمل دوبارہ جاری ہو تو لغوی اعتبار سے اسے بدعت کہہ سکتے ہیں
جو عمل سنت سے ثابت ہو اور عوام میں جاری نہ ہو، پھر اس ثابت شدہ عمل کو دوبارہ جاری کر دیا جائے تو لغوی اعتبار سے اسے بدعت کہا جا سکتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ» یہ اچھی بدعت ہے۔ [صحيح بخاري: 2010] کا یہی مطلب ہے لیکن جس عمل کا کتاب و سنت اور ادلۂ شرعیہ میں کوئی ثبوت ہی نہ ہو تو اسے بدعتِ حسنہ قرار دینا غلط ہے۔ شریعت میں بدعتِ حسنہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر بدعت گمراہی ہے۔ اگرچہ (بعض) لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں۔ [السنة للمروزي: 82 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 47 صفحہ 4
اور اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح حدیث نمبر 141
جو عمل سنت سے ثابت ہو اور عوام میں جاری نہ ہو، پھر اس ثابت شدہ عمل کو دوبارہ جاری کر دیا جائے تو لغوی اعتبار سے اسے بدعت کہا جا سکتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ» یہ اچھی بدعت ہے۔ [صحيح بخاري: 2010] کا یہی مطلب ہے لیکن جس عمل کا کتاب و سنت اور ادلۂ شرعیہ میں کوئی ثبوت ہی نہ ہو تو اسے بدعتِ حسنہ قرار دینا غلط ہے۔ شریعت میں بدعتِ حسنہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر بدعت گمراہی ہے۔ اگرچہ (بعض) لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں۔ [السنة للمروزي: 82 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 47 صفحہ 4
اور اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح حدیث نمبر 141
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2010
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو نماز تراویح باجماعت ادا کرنے کی مشروعیت ثابت کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کی جماعت کا باقاعدہ اہتمام نہیں تھا، وہ اس اندیشے کے پیش نظر کہ مبادا فرض ہو جائے اور لوگ اس سے عاجز آ جائیں۔
بعد ازاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وجوب کا اندیشہ نہ رہا تو باجماعت تراویح کا اہتمام کر دیا گیا۔
حضرت عمر ؓ نے اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا، اس نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
(2)
یاد رہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس فعل کو بدعت سے اس لیے موسوم کیا کہ ان کے زمانے میں نماز تراویح اس طرح نہیں پڑھی جاتی تھی۔
اس اعتبار سے ان کے عہد خلافت میں یقینا یہ نیا کام تھا، لیکن فی الحقیقت یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا جا چکا تھا۔
اسے بدعت کہنے کی یہ ہرگز وجہ نہ تھی کہ حضرت عمر ؓ بدعت کی تقسیم سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں:
ایک بدعت حسنہ، ایک بدعت سیئہ، جیسا کہ آج بعض حضرات کا موقف ہے۔
شریعت کی نظر میں ہر بدعت ہی گمراہی ہے۔
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد بدعت لغوی ہے شرعی نہیں کیونکہ لغت میں بدعت ہر اس کام کو کہا جاتا ہے جس کی ابتدا پہلی مرتبہ کی گئی ہو جبکہ شرعی بدعت یہ ہے کہ ہر ایسا کام جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔
(3)
واضح رہے کہ اس روایت میں رکعات تراویح کی تعداد بیان نہیں ہوئی، چنانچہ حضرت امام مالک ؓ نے اس کی تعداد بایں الفاظ بیان کی ہے، حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری ؓ کو نماز تراویح کے لیے تعینات فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں۔
(الموطأ للإمام مالك مع تنویرالحوالك: 105/1)
امام مالک ؒ کے ساتھ یحییٰ بن سعید القطان اور امام عبدالعزیز بن محمد بھی اسی تعداد کو بیان کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس کی تفصیل ہم آئندہ بیان کریں گے۔
مزید تفصیل کے لیے مرعاۃ المفاتیح (2/233)
کا مطالعہ مفید رہے گا۔
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو نماز تراویح باجماعت ادا کرنے کی مشروعیت ثابت کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کی جماعت کا باقاعدہ اہتمام نہیں تھا، وہ اس اندیشے کے پیش نظر کہ مبادا فرض ہو جائے اور لوگ اس سے عاجز آ جائیں۔
بعد ازاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وجوب کا اندیشہ نہ رہا تو باجماعت تراویح کا اہتمام کر دیا گیا۔
حضرت عمر ؓ نے اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا، اس نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
(2)
یاد رہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس فعل کو بدعت سے اس لیے موسوم کیا کہ ان کے زمانے میں نماز تراویح اس طرح نہیں پڑھی جاتی تھی۔
اس اعتبار سے ان کے عہد خلافت میں یقینا یہ نیا کام تھا، لیکن فی الحقیقت یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا جا چکا تھا۔
اسے بدعت کہنے کی یہ ہرگز وجہ نہ تھی کہ حضرت عمر ؓ بدعت کی تقسیم سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں:
ایک بدعت حسنہ، ایک بدعت سیئہ، جیسا کہ آج بعض حضرات کا موقف ہے۔
شریعت کی نظر میں ہر بدعت ہی گمراہی ہے۔
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد بدعت لغوی ہے شرعی نہیں کیونکہ لغت میں بدعت ہر اس کام کو کہا جاتا ہے جس کی ابتدا پہلی مرتبہ کی گئی ہو جبکہ شرعی بدعت یہ ہے کہ ہر ایسا کام جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔
(3)
واضح رہے کہ اس روایت میں رکعات تراویح کی تعداد بیان نہیں ہوئی، چنانچہ حضرت امام مالک ؓ نے اس کی تعداد بایں الفاظ بیان کی ہے، حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری ؓ کو نماز تراویح کے لیے تعینات فرمایا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں۔
(الموطأ للإمام مالك مع تنویرالحوالك: 105/1)
امام مالک ؒ کے ساتھ یحییٰ بن سعید القطان اور امام عبدالعزیز بن محمد بھی اسی تعداد کو بیان کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس کی تفصیل ہم آئندہ بیان کریں گے۔
مزید تفصیل کے لیے مرعاۃ المفاتیح (2/233)
کا مطالعہ مفید رہے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2010]
Sahih Bukhari Hadith 2010 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي