یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب كسب الرجل وعمله بيده:
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ يَكُونُ لَهُمْ أَرْوَاحٌ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ"، رَوَاهُ هَمَّامٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ.
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور (زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے) ان کے جسم سے (پسینے کی) بو آ جاتی تھی۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہو گا۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2071]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خود محنت مزدوری کرتے تھے، جس کی بنا پر ان کے جسم سے پسینے وغیرہ کی بو آتی تھی۔ ایسے حالات میں ان سے کہا گیا: ”اگر تم غسل کر لیتے تو بہتر ہوتا۔“ اسے ہمام نے ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2071 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2071
حدیث حاشیہ:
(1)
مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم گزر اوقات کے لیے خود مشقت کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے تجارت، زراعت اور محنت و مزدوری کرتے تھے۔
چونکہ اس وقت غربت کا دور تھا،اس لیے وہ اون کے موٹے کپڑے پہنتے، جب انھی کپڑوں میں جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد آتے تو پسینہ آنے کی وجہ سے ان کے جسم سے ناگوار قسم کی بو آتی،اس لیے انھیں تلقین کی گئی کہ اگر غسل کرلیا جائے تو بہتر ہے تاکہ اس ناگوار بو سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خود محنت ومشقت کرتے تھے،دوسروں پر بوجھ بننا انھیں گوارا نہ تھا۔w
(1)
مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم گزر اوقات کے لیے خود مشقت کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے تجارت، زراعت اور محنت و مزدوری کرتے تھے۔
چونکہ اس وقت غربت کا دور تھا،اس لیے وہ اون کے موٹے کپڑے پہنتے، جب انھی کپڑوں میں جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد آتے تو پسینہ آنے کی وجہ سے ان کے جسم سے ناگوار قسم کی بو آتی،اس لیے انھیں تلقین کی گئی کہ اگر غسل کرلیا جائے تو بہتر ہے تاکہ اس ناگوار بو سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خود محنت ومشقت کرتے تھے،دوسروں پر بوجھ بننا انھیں گوارا نہ تھا۔w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2071]
Sahih Bukhari Hadith 2071 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق