🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب السهولة والسماحة فى الشراء والبيع، ومن طلب حقا فليطلبه فى عفاف:
باب: خرید و فروخت کے وقت نرمی، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2076
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى".
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة
👤←👥علي بن عياش الألهاني، أبو الحسن
Newعلي بن عياش الألهاني ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2076
رحم الله رجلا سمحا إذا باع وإذا اشترى وإذا اقتضى
جامع الترمذي
1320
غفر الله لرجل كان قبلكم كان سهلا إذا باع سهلا إذا اشترى سهلا إذا اقتضى
سنن ابن ماجه
2203
رحم الله عبدا سمحا إذا باع سمحا إذا اشترى سمحا إذا اقتضى
المعجم الصغير للطبراني
535
رحم الله عبدا سمحا قاضيا وسمحا مقتضيا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2076 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2076
حدیث حاشیہ:
(1)
ايك روايت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا جو فروخت کرتے،خریدتے، حقوق کا تقاضا اور ان کی ادائیگی کے وقت خوش دلی اختیار کرتا ہے۔
(سنن النسائی،البیوع،حدیث: 4700) (2)
اس سے معلوم ہوا کہ معاملات میں خندہ پیشانی اور کشادہ روئی سے پیش آنا چاہیے،نیز تنگ دلی اور خود غرضی سے بچنا چاہیے۔
(3)
حدیث میں دعا اور خبر دونوں کا احتمال ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ کی بیان کردہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معین شخص کے متعلق خبردی ہے۔
اس کے الفاظ یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک ایسے شخص کو معاف کردیا جو خریدوفروخت کے وقت نرمی اختیار کرتا تھا۔
(جامع الترمذی،الاحکام،حدیث: 1320)
بہرحال ایسے معاملات میں اچھے اخلاق کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ ان امور سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2076]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2203
خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے، جو نرمی کرے جب بیچے، نرمی کرے جب خریدے، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2203]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ کو نرمی پسند ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے، جب کہ درشتی سے ایسے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جو امن و امان کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔

(2)
لوگوں میں زیادہ جھگڑے لین دین کے معاملات میں ہوتے ہیں، جب ایک شخص کی غلطی کو دوسرا برداشت کرنے پر آ مادہ نہیں ہوتا اور فریقین میں سے ہر ایک اپنا فائدہ مد نظر رکھتا ہے، اس لیے ان معاملات میں تحمل و برداشت کی ضرورت زیادہ ہے۔

(3)
بیچنے میں نرمی یہ ہے کہ قیمت میں مناسب رعایت دی جائے، ادھار لینے والے کو مہلت دی جائے، اگر خریدار نامناسب حد تک رعائت طلب کرے تو جھگڑنے کی بجائے نرمی سے معذرت کر لی جائے۔
اگر وہ خریدی ہوئی چیز واپس کرنا چاہے تو واپس لے لی جائے۔

(4)
خریدنے میں نرمی یہ ہے کہ قیمت میں نامناسب حد تک رعایت کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
اگر خریدی جانے والی چیز میں کوئی معمولی عیب ہو تو نظر انداز کر دیا جائے حتیٰ الامکان نقد ادائیگی کی جائے۔
اگر دکاندار نامناسب رویہ اختیار کرے تو اس کے جواب میں تلخ کلامی نہ جائے۔

(5)
تقاضا سے مراد اپنا حق طلب کرنا ہے، مثلاً:
قرض کی واپسی کا مطالبہ۔
اور پیشگی قیمت ادا کرنے کی صورت میں خریدی ہوئی چیز مقررہ وقت پر مہیا کرنے کا مطالبہ۔

(6)
تقاضا میں نرمی کا مطلب ہے دوسرے کے جائز عذر کو تسلیم کرتے ہوئے مناسب مہلت دینا۔
اور مطالبہ کرتے ہوئے اس کی عزت نفس کا خیال کرنا اور تلخ کلامی یا گالی گلوچ سے پرہیز کرنا۔

(7)
خوش اخلاقی بہت بڑی نیکی ہے۔

(8)
خوش اخلاق تاجر کے کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2203]

Sahih Bukhari Hadith 2076 in Urdu