🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب الأسواق التى كانت فى الجاهلية فتبايع بها الناس فى الإسلام:
باب: جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خرید و فروخت کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَتْ عُكَاظٌ، وَمَجَنَّةُ، وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ، تَأَثَّمُوا مِنَ التِّجَارَةِ فِيهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ سورة البقرة آية 198"، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَذَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس عليكم جناح‏** في مواسم الحج»، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرآت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2098]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کی منڈیاں تھیں، جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگوں نے ان منڈیوں میں خریدوفروخت کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] تم پر کوئی گناہ نہیں کہ (حج کے زمانے میں) تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایسے ہی پڑھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2098
عكاظ ومجنة وذو المجاز أسواقا في الجاهلية فلما كان الإسلام تأثموا من التجارة فيها فأنزل الله ليس عليكم جناح
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2098 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2098
حدیث حاشیہ:
یعنی تم پر گناہ نہیں کہ ایام حج میں ان بازاروں میں تجارت کرو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2098]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2098
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان سے معلوم ہوا کہ گناہ کے مقامات اور دور جاہلیت کی جگہیں،طاعت کے افعال کے لیے رکاوٹ کا باعث نہیں ہیں۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت میں في مواسم الحج پڑھا ہے۔
اسے اصطلاح میں تفسیری قراءت کہتے ہیں،اگرچہ یہ قراءت متواترہ کے خلاف ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2098]

Sahih Bukhari Hadith 2098 in Urdu