یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب ما يستحب من الكيل:
باب: اناج کا ناپ تول کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے غلے کو ناپ لیا کرو۔ اس میں تمہیں برکت ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2128]
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا غلہ ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت دی جائے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2128
| كيلوا طعامكم يبارك لكم |
سنن ابن ماجه |
2232
| كيلوا طعامكم يبارك لكم فيه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2128 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2128
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ حکم اس وقت ہے جب غلہ خریدا جائے اور اپنے گھر لایا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بدولت اس میں برکت حاصل ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کی صورت میں برکت اٹھالی جاے گی،لیکن خرچ کرتے وقت وزن کرتے رہنا اس کی برکت کو ختم کرنے کے مترادف ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میرے پاس کچھ جوتھے جنھیں میں ایک مدت تک استعمال کرتی رہی،آخر میں نے ایک دن ان کا وزن کیا تو وہ ختم ہوگئے۔
(صحیح البخاری،الزقاق،حدیث: 6451)
اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدوفروخت کے وقت ماپ اور تول باعث برکت ہے جبکہ مال کو اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت ماپا اور تولا جائے تو اس سے بے برکتی ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے اس حدیث کو خریدوفروخت کے احکام میں ذکر کیا ہے۔
(2)
ہمارے نزدیک اللہ کی طرف سے برکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجاآوری میں ہے۔
جب نافرمانی کرتے ہوئے خریدوفروخت کے وقت اسے وزن یا ماپ کرنے سے پہلو تہی کی جائے گی تو اس کی نحوست سے برکت اٹھالی جائے گی۔
اسی طرح گھر کے اخراجات کا حساب لگانے کے لیے اگر اس کا وزن کیا جائے تو بھی غلہ اس نحوست کی بنا پر برکت سے محروم ہوجائے گا۔
(فتح الباری: 4/438)
والله أعلم.
(1)
یہ حکم اس وقت ہے جب غلہ خریدا جائے اور اپنے گھر لایا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بدولت اس میں برکت حاصل ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کی صورت میں برکت اٹھالی جاے گی،لیکن خرچ کرتے وقت وزن کرتے رہنا اس کی برکت کو ختم کرنے کے مترادف ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میرے پاس کچھ جوتھے جنھیں میں ایک مدت تک استعمال کرتی رہی،آخر میں نے ایک دن ان کا وزن کیا تو وہ ختم ہوگئے۔
(صحیح البخاری،الزقاق،حدیث: 6451)
اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدوفروخت کے وقت ماپ اور تول باعث برکت ہے جبکہ مال کو اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت ماپا اور تولا جائے تو اس سے بے برکتی ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے اس حدیث کو خریدوفروخت کے احکام میں ذکر کیا ہے۔
(2)
ہمارے نزدیک اللہ کی طرف سے برکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجاآوری میں ہے۔
جب نافرمانی کرتے ہوئے خریدوفروخت کے وقت اسے وزن یا ماپ کرنے سے پہلو تہی کی جائے گی تو اس کی نحوست سے برکت اٹھالی جائے گی۔
اسی طرح گھر کے اخراجات کا حساب لگانے کے لیے اگر اس کا وزن کیا جائے تو بھی غلہ اس نحوست کی بنا پر برکت سے محروم ہوجائے گا۔
(فتح الباری: 4/438)
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2128]
Sahih Bukhari Hadith 2128 in Urdu
خالد بن معدان الكلاعي ← المقدام بن معدي كرب الكندي