🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب الإجارة إلى نصف النهار:
باب: آدھے دن کے لیے مزدور لگانا (جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتْ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ عَلَى قِيرَاطَيْنِ؟ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا: مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ میرا کام ایک قیراط پر صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ اس پر یہودیوں نے (صبح سے دوپہر تک) اس کا کام کیا۔ پھر اس نے کہا کہ آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط پر میرا کام کون کرے گا؟ چنانچہ یہ کام پھر نصاریٰ نے کیا، پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کے وقت سے سورج ڈوبنے تک میرا کام دو قیراط پر کون کرے گا؟ اور تم (امت محمدیہ) ہی وہ لوگ ہو (جن کو یہ درجہ حاصل ہوا) اس پر یہود و نصاریٰ نے برا مانا، وہ کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کم ملے، پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کیا تمہارا حق تمہیں پورا نہیں ملا؟ سب نے کہا کہ ہمیں تو ہمارا پورا حق مل گیا۔ اس شخص نے کہا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2268]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2269
مثلكم واليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا قال من يعمل لي إلى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود على قيراط قيراط ثم عملت النصارى على قيراط قيراط ثم أنتم الذين تعملون من صلاة العصر إلى مغارب الشمس على قيراطين قيراطين فغضبت اليهود والنصارى وقالوا نحن أكث
صحيح البخاري
2268
مثلكم ومثل أهل الكتابين كمثل رجل استأجر أجراء قال من يعمل لي من غدوة إلى نصف النهار على قيراط فعملت اليهود ثم قال من يعمل لي من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط فعملت النصارى ثم قال من يعمل لي من العصر إلى أن تغيب الشمس على قيراطين فأنتم هم فغضبت اليهو
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2268 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2268
حدیث حاشیہ:
تم کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔
اس سے اہل سنت کا مذہب ثابت ہوا کہ اللہ کی طرف سے ثواب ملنا بطریق احسن کے ہے۔
امت محمدیہ پر یہ خدا کا کرم ہے کہ وہ جو بھی نیکی کرے اس کو دس گنا بلکہ بعض دفعہ اور بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔
وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں مگر ثواب پچاس وقت کا دیا جاتاہے۔
یہ اس امت مرحومہ کی خصوصیات میں سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2268]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2268
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ثابت ہوا کہ جز وقتی کام کے لیے جس میں وقت کا صحیح تعین نہیں ہوسکتا، کسی مزدور کو اجرت پر رکھا جاسکتا ہے اگرچہ آج کل گھڑیوں نے وقت کا تعین آسان کر دیا ہے۔
قدیم زمانے میں بھی ظہر کا وقت، عصر کا وقت اور قیلولے کا وقت سب معلوم ہوتا تھا لیکن اس کا تعین نہیں تھا۔
اس کے باوجود ایسا اجارہ جائز ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس کے جواز کے لیے ایک تمثیل کو پیش کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دین حنیف کی خدمت کے لیے یہود کو صبح سے لے کر ظہر تک،نصارٰی کو ظہر سے عصر تک اور اہل اسلام کو عصر سے مغرب تک مقرر کیا۔
اس سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا کہ جز وقتی اجارہ بھی صحیح ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں جبکہ دن کے اس حصے کو معین کرلیا جائے، مثلاً:
ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کے لیے مزدور رکھا جائے۔
الغرض اس قسم کے عنوانات سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اجارے کے لیے پورا دن ضروری نہیں بلکہ دن کے حصوں میں بھی اجارہ کیا جاسکتا ہے جسے ہم (part Time)
کہتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2268]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2269
2269. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مثال اور یہود ونصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے مزدوری کے لیے مزدور لگائے اور کہا: کون ہے جو دوپہر تک ایک ایک قیراط پر میرا کام کرے؟ یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ ان کے بعد نصاریٰ نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگ ہو جو نماز عصر سےغروب آفتاب تک دو، قیراط پر کام کرتے ہو۔ یہود ونصاریٰ ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ہمارا کام زیادہ ہے لیکن ہمیں مزدوری بہت تھوڑی ملی ہے۔ ارشاد ہوا کیا میں نے تمہارے حق میں کوتاہی کی ہے؟ انھوں نے کہا: ایسا ہرگز نہیں۔ فرمایا: یہ میرا فضل و احسان ہے میں جسے چاہوں دوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2269]
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں گو یہ صراحت نہیں کہ نصاریٰ نے عصر تک کام کیا، مگر یہ مضمون اس سے نکلتا ہے کہ تم مسلمانوں نے عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک کام کیا۔
کیوں کہ مسلمانوں کا عمل نصاریٰ کے عمل کے بعد شروع ہوا ہوگا۔
اس میں امت محمدیہ کے خاتم الامم ہونے کا بھی اشارہ ہے اوریہ بھی کہ ثواب کے لحاظ سے یہ امت سابقہ جملہ امم پر فوقیت رکھتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2269]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2269
2269. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مثال اور یہود ونصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے مزدوری کے لیے مزدور لگائے اور کہا: کون ہے جو دوپہر تک ایک ایک قیراط پر میرا کام کرے؟ یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ ان کے بعد نصاریٰ نے ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگ ہو جو نماز عصر سےغروب آفتاب تک دو، قیراط پر کام کرتے ہو۔ یہود ونصاریٰ ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ہمارا کام زیادہ ہے لیکن ہمیں مزدوری بہت تھوڑی ملی ہے۔ ارشاد ہوا کیا میں نے تمہارے حق میں کوتاہی کی ہے؟ انھوں نے کہا: ایسا ہرگز نہیں۔ فرمایا: یہ میرا فضل و احسان ہے میں جسے چاہوں دوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2269]
حدیث حاشیہ:
(1)
ہمیں قرآن وحدیث کی حفاظت واشاعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس عظیم کارنامے کی بدولت اس امت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا اور یہود ونصاریٰ پر برتری عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ اس نعمت کو برقرار رکھنے کی توفیق دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کئی ایک جگہ پر نقل کیا ہے اور اس سے مختلف احکام ومسائل کا استنباط کیا ہے۔
اس حدیث میں یہودونصاریٰ اور اہل اسلام کا تقابل ایک تمثیلی انداز میں دکھایا گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2269]